Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children


  اردوادب | افسانے |  رانجندر سنگھ بھيدي
  اپنے دکھ مجھے دے دو

جبھي اندو نے اپنا چہرہ چھڑا ليا جيسے وہ ديکھنے کي اجازت تو ديتي ہو، ليکن اتني دير کے لئے نہيں، آخر شرم کي بھي تو کوئي حد ہوتي ہے، مدن نے ذرا سخت ہاتھوں سے يوں ہي سي ہوں ہاں کرتے ہوئے دلہن کا چہرہ پھر سے اوپر کو اٹھا ديا، شرابي سي آواز ميں کہا اندو۔
اندو کچھ ڈر سي گئي، زندگي ميں پہلي بار کسي اجنبي نے اس کانام اس انداز ميں پکارا تھا، اور وہ اجنبي کسي خدائي حق سے رات کے اندھيرے ميں آہستہ آہستہ اس اکيلي بے يار و مدد گار عورت کا اپنا ہوتا جارہا تھا، اندو نے پہلي بار ايک نظر اوپر ديکھتے ہوئے پھر آنکھيں بند کرليں، اور صرف اتنا سا کہا، جي اسے خود اپني آواز کسي پاتال سے آتي ھوئي سنائي دي۔
دير تک کچھ ايسا ہي ہوتا رہا، اور اس پھر ہولے ہولے بات چل نکلي اب جو چلي سو چلي، وہ تھمنے ہي ميں نہ آتي تھي، اندو کے پتا، اندو کي ماں، اندو کے بھائي، مدن کے بھائي بہن، باپ، ان کي ريلوے سيل سروس کي نوکري، ان کے مزاج، کپڑوں کي پسند، کھانے کي عادت، سبھي کا جائزہ ليا جانے لگا، بيچ بيچ ميں مدن بات چيت کو توڑ کر کچھ اور ہي کرنا چاہتا تھا۔
ليکن انتہائي مجبوري اور لاچاري ميں مدن نےاپني ماں کا ذکر چھيڑ ديا، جو اسے سات سال کي عمر ميں چھوڑ کر دق کے عارضے سے چلتي بني تھي، جتني دير زندہ رہي بيچاري مدن نے کہا، بابو جي کے ہاتھ ميں داوئي کي شيشياں رہيں، ہم اسپتال کي سيڑھيوں پر اور چھوٹا پاشي گھر ميں چيونٹوں کے بل پر سوتے رہے۔
آخر ايک دن ٢٨ مارچ کي شام اور مدن چپ ہوگيا، چند ہي لمحوں ميں وہ رونے سے ذرا ادھر اور گھگھي سے ذرا ادھر پہنچ گيا، اندو نے گھبرا کہ مدن کا سر اپني چھاتي سے لگا ليا، اس رونے نے پل بھر ميں اندو کو اپنے پن سے ادھر ادھر کرديا۔۔۔مدن اندو کے بارے ميں کچھ بھي نہيں جانتا تھا، ليکن اندو نے اس کے ہاتھ پکڑ لئے اور کہا، ميں تو پڑھي لکھي نہيں ہوں جي۔۔۔۔۔پر ميں نے ماں باپ ديکھے ہيں، بھائي اور بھابياں ديکھي ہيں، اس لئے ميں کچھ سمجھتي بوجھتي ہوں۔
ميں اب تمہاري ہوں۔۔۔۔۔اپنے بدلے ميں تم سے ايک ہي چيز مانگتي ہوں، روتے وقت اور اس کے بعد بھي ايک نشہ سا تھا، مدن نے کچھ بے صبري اور دريا دلي کے ملے جلے شبدوں ميں کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کيا مانگتي ہو؟ تم جو بھي کہو گي ميں دوں گا۔
پکي بات؟ اندو بولي
مدن نے کچھ اتاولے ہو کر کہا۔ہاں ہاں ۔۔۔کہاں جو پکي بات۔
ليکن اس بيچ ميں مدن کے من ميں ايک وسوسہ آيا۔۔۔۔۔ميرا کاروبار پہلے ہي مندا ہے، اگر اندو کوئي ايسي چيز مانگ لے جو ميري پہنچ ہي سے باہر ہو، تو پھر کيا ہوگا، ليکن اندو نے مدن کے سخت اور پھليے ہوئے ہاتھوں کو اپنے ملائم ہاتھوں ميں سميٹتے ہوئے اور ان پر اپنے گال رکھتے ہوئے کہا،تم اپنے دکھ مجھے دے دوں۔
مدن سخت حيران تھا، ساتھ ہي اسے اپنے آپ پر ايک بوجھ بھي اترتا ہوا محسوس ہوا، اس نے پھر چاندني ميں ايک بار پھر اندو کا چہرہ ديکھنے کي کوشش کي، ليکن وہ کچھ نہ جان پايا، اس نے سوچا يہ ماں يا کسي سہيلي کا رٹا ہوا فقرہ ہوگا جو اندو نے کہہ ديا، جبھي يہ جلتا ہوا آنسو مدن کے ہاتھ کي پشت پر گرا، اس نے اندو کو اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے کہا، ديے، ليکن ان سب باتوں نے مدن سے اس کي بہيمہت چھين لي تھي،مہمان ايک ايک کرکے سب رخصت ہوئے۔
چکلي بھابي دو بچوں کو انگليوں سے لگائے سيڑھيوں کي اونچ نيچ سے تيسرا پيٹ سنبھالتي ہوئي چل دي، درما باد والي پھوپھي جو اپنے نو لکھے ہار کے گم ہو جانے پر شور مچاتي وويلا کرتي ہوئي بے ہوش ہوگئي تھي، اور جو غسل خانے ميں پڑا ہوا ملا گيا تھا، جہيز ميں سے اپنے حصے کے تين کپڑے لے کر چلي گئي، پھر چاچا گئے، جن کو ان کے جے پي ھوجانے کي خبر تار کے ذريعے تھي، اور جو شايد بد حواسي ميں مدن کے بجائے دلہن کا منہ چومنے چلے تھے،گھر ميں بوڑھا باپ رہ گيا تھا اور چھوٹے بہن بھائي، چھوٹي دلاري تو ہر وقت بھابي کي ہي بغل ميں گھسي رہتي تھي۔
گلي محلے کي کوئي عورت دلہن کو ديکھے يا نہ ديکھے، ديکھے تو کتني دير تک ديکھے، يہ سب اس کے اخيتار ميں تھا، آخر يہ سب ختم ہوا اور اندو آہستہ آہستہ پراني ہونے لگي، ليکن کا لکاجي کي اس نئي آبادي کے لوگ اب بھي آتے جاتے، مدن تو اس کے سامنے رک جاتے، اور کسي بھي بہانے سے اندر چلے جاتے، اندو ديکھتے ہي ايک دم گھونٹ کہيچ ليتي، ليکن اس چھوٹے سے وقفے ميں جو کچھ دکھائي دے جاتا وہ بنا گھونٹ کے دکھائي ہي نہ دے سکتا تھا۔

پچھلا صحفہ (2) اگلا صفحہ
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu