|
وقت کا دھارا ازال سے بہتا چلا آرہا ہے اور اس ابد تک
بہتا رہے گا، اس کے سنگ سنگ ہي زندگي بہتي چلي جارہي ہے، زندگي اپنے بہائو ميں
انسانوں کو ايک زاروں کي طرح بہاتي چلي جاتي ہے، ريگ زار کبھي اپني جگہ سے ہل
کر وہيں جم کر ٹک جاتے ہيں، کچھ نئے شامل ہوجاتے ہيں، وہ بھي رکتے ہيں
آگے بڑھتے ہيں، پھر ٹہر جاتے ہيں، غرضيکہ زندگي سے چمٹے ريگ زاروں کا سلسلہ ازل
سے چل رہا ہے، اور اب تک چلتا رہے گا، انسان ايسا ہي ريت کا ذرہ ہے جو وقت کے
دھارے ميں زندگي سے لپٹا ہوا ہے، کبھي زندگي نزديک ہي تہہ ميں بيٹھ جاتي ہے،
کبھي دور تک چلا جاتا ہے، يہ نزديکي اور دوري ماہ و سال میں ماپي جاتي ہے، يہي
عمر کہلاتي ہے، عمر چند لمحے بھي ہوسکتي ہے، چند ماہ، چند سال اور سالہا سال
بھي ہوسکتي ہے، عمرکےہ بھي کئي رخ، کئي زاوئيے اور کئي جہتيںہوتي
ہيں،۔۔۔عمر انسان کا وہ عرصہ ہے جو وہ زندگي کے سنگ گزارتا ہے، ہر انسان کا يہ
عرصہ ايک جيسا نہيں گزرتا ہے۔۔اس کے رخ زاويے اور جہتيں ہر انسان کيلئے مختلف
ہوتي ہيں، اس عرصے کا خاتمہ بھي ہر بندے کيلئے ايک جيسا نہيں ہوتا، کہيں زندگي
ايک دم ہي ناطہ توڑ ليتي ہے، کہيں رينگ رينگ کر گزرتے ہوئے جينے والے کو اذيت
اور عذاب ميں مبتلا کرديتي ہے، زندگي اپنا وہ سرمايہ جو جيتے جاگتے لوگ انسان
کي صورت ميں اٹھائے اٹھائے چلي جاتي ہے، بالآخر موت کے حوالے کرديتي ہے، زندگي
جيتي ہي مرنے کيلئے ہے۔
ہر انسان کي زندگي تھوڑي ہو يا زيادہ وقت اپان کردار ادا کرتا ہے، کبھي سہانا
بن کر، کبھي ڈرائونا بن کر، نشيب و فراز ميں سے گزرتا ہے، دکھ، خوشي، غم، فکر،
انتشار، کا ميابي،ناکامي سبھي کو لپيٹ ميں لے کر چلتا ہے۔
|