|
|
| |
بابو گوپي
ناتھ |
ٹيکسي ايک طرف کھڑي کي گئي، بابو گوپي ناتھ باہر نکلا تو سينڈو
اسے کچھ دور لے گيا، دير تک ان ميں باتيں ہوتي رہيں، جب ختم ہوئيں تو بابو گوپي
ناتھ اکيلا ٹيکسي کي طرف آيا، ڈرائيور سے اس نے کہا واپس چلو، بابو گوپي ناتھ
خوش تھا، ہم داور کے پاس پہنچے تو اس نے کہا منٹو صاحب زينو کي شادي ہونے
والي ہے، ميں نے حيرت سے کہا کس سے؟
بابو گوپي ناتھ نے جواب ديا حيدرآبد سندہ کا ايک دولت مند زميندار ہے، خدا کرے
دونوں خوش رہيں، يہ بھي اچھا ہے جو ميں عين وقت پر آنپہنچا، جو رپوے ميرے پاس
ہيں ان سے زينو کا جہز بن جائے گا۔۔۔۔۔۔کيوں کيا خيال ہے آپ کا۔
ميرے دماغ ميں اس وقت کوئي خيال نہيں تھا، ميں سوچ رہا تھا، کہ يہ حیدرآباد
سندہ کا دولت مند زميندار کون ہے؟ ہےسينڈو اور سردار کي کوئي جعل سازي تو نہيں
ليکن بعد ميں اس کي تصديق ہوگئي کہ وہ حقيقتا حيدرآباد کا متمول زميندار تھا،
جو حيدآباد سندھي ہي کے ايک ميوزک ٹيچر کي معرفت زينت سے متعارف ہوا، يہ ميوزک
ٹيچرزينت کا گانا سکھانےکي بے سود کوشش کيا کرتا تھا، ايک روز يہ اپنے مربي
غلام حسين يہ حيدرآبد سندھ کے رئيس کا نام تھا، کو ساتھ لے کر آيا، زينت نے خوب
خاطرمدارات کي غلام حسين کي پر زور فرمائش پر اس نے غالب کي غزل
نکتہ چيں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بننے
گا کر سنائي، غلام حسين سو جان سے اس پر فريقتہ ہوگيا، اس کو ذکر ميوزک ٹيچر
نےزينت سے کيا، سردار اور سينڈو نے مل کر معاملہ پکا کرديا اور شادي طے ہوگئي۔
بابو گوپي ناتھ خوش تھا ايک دفعہ سينڈو کے دوست کي حثييت سے وہ زينت کے ہاں
گيا، غلام حسين سے اسکي ملاقات ہوئي اس سے مل کر بابو گوپي ناتھ کي خوشي دوگني
ہوگئي، مجھ اس نے مجھ سے کہا منٹو صاحب خوبصورت جوان اور بڑا لائق آدمي ہے۔۔۔۔ميں نے
يہاں آتے ہي۔۔۔۔۔۔۔داتا گنج بخش کے حضور جا کر دعا مانگي تھي جو قبول
ہوئي۔۔۔۔۔۔بھگوان کرے دنوں خوش رہيں۔
بابو گوپي ناتھ نے بڑے خلوص اور بڑي توجہ سے زينت کي شادي کا انتظام کيا، دو
ہزار کے زيور اور دو ہزار کے کپڑے دئيے اور پانچ ہزار نقد دئيے۔ |
|
 |