|
|
| |
بابو گوپي
ناتھ |
محمد شفيق طوسي، محمد ياسين پروپرائيٹر نگينگ ہوٹل، سينڈو،
ميوزک ٹيچراور بابو گوپي ناتھ شادي میں شامل تھے، دولہن کي طرف سے سينڈو
وکيل تھا۔
ايجباب و قبول ہوا تو سينڈو نے آہستہ سے کہا دھڑن تختہ۔
غلام حسين سرج کا نيلا سوٹ پہنے تھا، سب نے اسکو مبارک باد دي جو اس نے خندھ
پيشاني سے قبول کي، کافي وجہہ آدمي تھا، بابو گوپي ناتھ اس کے مقابلے ميں چھوٹي
سي بٹير معلوم ہوتا تھا۔
شادي کي دعوتوں پر خود نش کا جو سامان بھي تھا، بابو گوپي ناتھ نے مہيا کيا
تھا، دعوت سے جب لوگ فارغ ہوئےتو بابو گوپي ناتھ نے سب کے ہاتھ دھلوائے، ميں جب
ہاتھ دہونے گيا تو اس نے مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بچوں کے سے انداز ميں کہا، منٹو صاحب
ذرا اندر جائيے اور ديکھئے زينو دولہن کے لباس ميں کيس لگتي ہے۔
ميں پردھ ہٹا کر اندر داخل ہوا، زينت سرخ زر بفت کا شلوار کرتہ پہنے
تھي۔۔۔۔۔دوپٹہ بھي اس رنگ کا تھا، جس پرگوٹ لگي تھي، چہرے پر ہلکا ہلکا ميک اپ
تھا، حالانکہ مجھے ہونٹوں پرلپ اسٹک کي سرخي بہت بري معلوم ہوتي تھي، مگر زينت
کے ہونٹ سجے ہوئے تھے، اس نے شرما کر مجھے آداب کيا تو بہت پياري لگي، ليکن جب
ميں نے دوسرے کونے ميں ايک مسہري ديکھي جس پر پھول پھول تھے تو مجھے بے اختيار
ہنسي آگئي، ميں زينت سے کہا يہ کيا مسخرہ پن ہے۔
زينت نے ميري طرف بالکل کبوتري کي طرح ديکھا ، آپ مذاق کرتے ہيں بھائي جان،اس
نے يہ کہا اور آنکھوں ميں آنسو ڈبڈبا آئے۔
مجھے اس غلطي کا احسا بھي نہ ہوا تھا کہ بابو گوپي ناتھ اندر داخل ہوا، بڑے
پيار سےاس نے اپنے رومال کے ساتھ زينت کے آنسو پونچھے اور بڑے دکھ کے ساتھ مجھ
سے کہا منٹو صاحب ميں سمجھتا تھا آپ بڑے سمجھ دار اور لائق آدمي ہيں۔۔۔۔۔زينوکا
مذاق اڑانے سے پہلے آپ نے کچھ سوچ ليا ہوتا۔
بابو گوپي ناتھ کے لہجے ميں وہ عقيدت جو اسے مجھ سے تھي، زخمي نظر آئي ليکن
پيشتر اس کہ کہ ميں اس سے معافي مانگوں، اس نے زينت کے سر پر ہاتھ پھيرا
اور بڑے خلوص کے ساتھ کہ، خدا تمہيں خوش رکھے۔
يہ کہہ کر بابو گوپي ناتھ نے بھيگي ہوئي آنکھوں سے ميري طرف ديکھا ان ميں ملامت
تھي۔۔۔۔۔ بہت ہي دکھ بھري ملامت۔۔۔۔۔۔اور چلا گيا۔ |
|
 |