|
|
| |
حج اکبر |
امتياز صغير کي شادي ہوئي تو شہر بھر ميں دھوم مچ گئي، آتش
بازيوں کا رواج باقي نہيں رہا تھا مگر دولہے کے باپ نے اس پراني عياشي پر بے
دريغ روپيہ صرف کيا، جب صغير زيوروں سے لدے پھندے سفيد براق گھوڑے پر سوار تھا
تو اس کے چاروں طرف انار چھوٹ رہے تھے، مہتابياں اپنے رنگ برنگ شعلے بکھير رہي
تھيں، پٹاخے چھوٹ رہے تھے، صغير خوش تھا۔
صغير نے امتياز کو ايک شادي کي تقريب ميں ديکھا تھا، اس کي جھلک اسے دکھائي دي
تھي، مگر وہ اس پر سو جان سے فريضہ ہوگيا، اور اس نے دل ميں عہد کرليا کہ وہ اس
کے علاوہ کسي کو اپني رفيقہ حيات نہيں بنائے گا، چاہے دنيا ادھر کي ادھر نہ
ہوجائے، دنيا ادھر کي ادھر نہ ہوئي، صغير نے امتياز کے راستے ڈھونڈ لئے شروع
شروع ميں اس خوبرو لڑکي کے حجاب آڑے آيا، ليکن بعد ميں صغير کو اس کا التفات
حاصل ہوگيا۔
صغير بہت مخلص دل کا نوجوان تھا، اس ميں ريا کاري نام کو بھي تھي، اس کو امتياز
سے محبت ہوگئي تو اس نے يہ سمجھا کہ اسے اپني زندگي کا اصل مقصد حاصل ہوگيا، اس
کو اس بات کي کوئي فکر نہيں تھي کہ اميتاز اسے قبول کرے گي يا نہيں وہ اس قسم
کا آدمي تھا کہا اپني محبت کے جذبے کے سہارے ساري زندگي بسر کرديتا، اس کو جب
اميتاز سے پہلي بار بات کرنے کا موقع ملا تو اس نے گفتگو کي ابتدا ہي ان الفاظ
سے کي، ديکھو لالي، ميں ايک نا محرم آدمي ہوں، ميں نے مجبور کياہے تم مجھ سے
ملو، اب اس ملاپ کا انجام بھي نيک ہونا چاہئيے، يہ ميرے ضمير اور دل کي
اکھٹي آواز ہے ، تم بھي وعدہ کرو کہ جب تک ميں زندہ ہو مجھے کوئي آزا نہيں
پہنچائوں گي اور ميري موت کے بعد بھي مجھے ياد کرتي رہو گي، اس لئے کہ
قبر ميں بھي ميري سوکھي ہڈياں تمہارے پيار کي بھوکيں ہوں گي۔
امتياز نے دھڑکتے ہوئے دل سے وعدہ کيا کہ وہ اس عہد پر قائم رہے گي، اس کے بعد
ان دونوں ميں چھپ چھپ کے ملاقاتيں رہيں، صغير مطمئن تھا کہ امتياز اس کي محبت
کي دعوت قبول کر چکي ہے، اس لئے اب اور زيادہ گفتگو کرنے کي ضرورت تھي، ويسے وہ
بھي اپني محبوبہ سے ملنا اس لئے ضروري سمجھتا تھا کہ وہ اس کے عادات و حصائل سے
واقف ہوجائے اور وہ بھي اس کو اچھي جان پہچان لے تاکہ وہ اس کچلت کا اندازہ
کرسکے اور اس کو شکايت کا کوئي موقع نہ ملے، اس نے ايک دن امتياز سے بڑے غير
عاشقانہ انداز ميں کہا، نازي ميں اب بھي تم سے کہتا ہوں کہ اگر تم نے مجھ ميں
کوئي خامي ديکھي ہے اگر ميں تمہارے معيار پر پورا نہيں اترا تو مجھے سے صاف صاف
کہہ دو، تم کسي بندھن ميں گرفتار نہيں ہو، تم مجھے دھتکار تو مجھے کوئي شکايت
نہيں ہوگي، ميري محبت ميرے لئے کافي ہے، ميں اس کے اور ان ملاقاتوں کے سہارے
کافي دير تک جي سکتا ہوں۔ |
|
 |