|
|
| |
کھول دو |
امر تسر سے اسپيشل ٹرين دوپہر دو بجے کو چلي آٹھ گھنٹوں کے بعد
مغل پورہ پہنچي، راستے ميں کئي آدمي مارے گئے، متعد زخمي اور کچھ ادھر ادھر
بھٹک گئے۔
صبح دس بجے ۔۔۔۔کيمپ کي ٹھنڈي زمين پرجب سراج الدين نے آنکھيں کھوليں، اور اپنے
چاروں طرف مردوں، عورتوں اور بچوں کا ايک متلاطم سمندر ديکھا تو اس کي سوچنے کي
قوتيں اور بھي ضعيف ہوگئيں، وہ دير تک گدلے آسمان کو ٹکٹکي باندھے ديکھتا
رہا، يو تو کيمپ ميں ہر طرف شور برپا تھا، ليکن بوڑھے سراج الدين کے کان جيسے
بند تھے، اسے کچھ سنائي نہيں ديتا تھا، کوئي اسے ديکھتا تو يہ خيال کرتا تھا، کہ
وہ کسي گہري فکر ميں غرق ہے، اسے کچھ سنائي نہيں ديتا ہے، اس کے حوش و حواس شل
تھے، اس کا سارا وجود خلا میں معلق تھا۔
گدلے آسمان کي طرف بغير کسي اردے کے ديکھتے ديکھتے سراج الدين کي نگاہيں سورج سے
ٹکرائيں، تيز روشني اس کے وجود کے رگ و ريشے ميں اتر گئي اور وہ جاگ اٹھا، اوپر
تلے اس کے دماغ پر کئي تصويريں دوڑ گئيں، لوٹ، آگ۔۔۔۔۔بھاگم
بھاگ۔۔۔۔۔اسٹینشن۔۔۔۔گولياں۔۔۔۔رات اور سکينہ۔۔۔سراج الدين ايک دم اٹھ کھڑا ہوا
اور پاگلوں کي طرح اس نے اپنے چاروں طرف پھليے ہوئے انسانوں کے سمندر کو
کھٹکانا شروع کيا۔ |
|
 |