|
|
| |
کھول دو |
کئي دن گزر گئے ۔۔۔۔۔۔۔سراج الدين کو سکينہ کي کوئي خبر نہ
ملي، وہ دن بھر مختلف کميپوں اور دفتروں کے چکر کاٹتا رہتا، ليکن کہيں سے بھي
اسکي بيٹي سکينہ کا پتہ نہ چلا سکا، رات کو وہ بہت دير تک ان رضاکر نوجوانوں کي
کاميابي کيلئے دعائيں مانگتا رہا، جنہوں نے اسکو يقين دلايا تھا کہ اگر سکينہ
زندہ ہوئي تو چند ہي دنوں ميں وہ اسے ڈھونڈ نکاليں گے۔
ايک روز سراج الدين نے کيمپ ميں ان نوجوان رضا کاروں کو ديکھا، لاري ميں بيٹھے
تھے، سراج الدين بھاگا بھاگا ان کے پاس گيا، لاري چلنے والي تھي کہ اس نے پوچھا
بيٹا ميري سکينہ کا پتہ چلا؟
سب نے يک زبان ہو کر کہا چلا جائے گا، چل جائے گا اور لاري چلادي۔
سراج الدين نے ايک بار پھر ان نوجوانون کي کاميابي کيلئے دعا مانگي اور اس کا
جي کس قدر ھلکا ہوگيا، شام کے قريب کيمپ ميں جہاں سراج الدين بيٹھا تھا، اس کے
پاس ہي کچھ گر بڑ سي ہوئي چار آدمي کچھ اٹھا کر لارہے تھے، اس نے دريافت کيا تو
معلوم ہو کہ ايک لڑکي ريلوے لائن کے پاس بے ہوش پڑي تھي، لوگ اسے اٹھا کر لائے
ہيں، سراج الدين ان کے پيچھے پيچھے ہوليا، لوگوں نے لڑکي کو اسپتال والوں کے
سپرد کيا اور چلے گئے۔
کچھ دير بعد ايسے ہي اسپتال کے باہر گڑے ہوئے لکڑي کے کھمبے کے ساتھ لگ کر کھڑا
رہا، پھر آھستہ آھستہ اندر چلا گيا، کمرے ميں کوئي نہيں تھا، ايک اسٹيريچر تھا،
جس پر ايک لاش پڑي تھي، سراج الدين چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کي طرف بڑھا،
کمرے ميں دفعتا روشني ہوئي سراج الدين نے لاش کے زرد چہرے پر چمکتا ہو تل ديکھا
اور چلايا، سکينہ۔
ڈاکٹر نے جس نے کمرے ميں روشني کي تھي، سراج الدين سے پوچھا کيا ہے؟
سراج الدين کے حلق سے صرف اس قدر نکل سکا،جي ميں ۔۔۔۔۔ جي ميں۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا باپ
ہوں۔
ڈاکٹر نے اسٹريچر پر پڑي ہوئي لاش کي طرف ديکھا، اس کي نبض ٹٹولي اور سراج
الدين سے کہا کھڑکي کھول دو۔
سکينہ کے مردہ جسم ميں جنبش پيدا ہوئي ، بے جان ہاتھوں سے اس نے ازار بند کھولا
اور شلوار نيچے سرکا دي، بوڑھا سراج الدين خوشي سے چلايا، زندہ ہے۔۔۔۔۔۔ميري
بيٹی زندہ ہے۔۔۔۔ڈاکٹر سر سے پير تک پسينے ميں غرق ہوگيا۔
|
|
 |