Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children


  اردوادب | افسانے |  سائرہ ہاشمي
  سناٹے کي گونج
چلتے چلتے اس کے پائوں تھک چکے تھے اور خوف کا بے پر پرندہ ابھي تک اس کے ساتھ اڑتا چلا آرہا تھا، سياہ رات کا چہرہ تاروں کي جوت کے باوجود اندھيرا لگ رہا تھا، دور تک پھيلے کھيت خاموشي کي تني چادر تلے حد حد نظر پھيلے تھے، اس نے چمکتے ہوئے جگنوئوں کو ديکھا جو ہزاروں کي تعداد ميں ايک ساتھ  جگمگارہے تھے  وھ کھيتوں کے بيچ بني پگڈنڈي پر بيٹھ گيا ، ساڑھ کي نرم ہوائيں سر سراہٹ کرتي مکئي کے کھيتوں ميں سے گزر رہي تھيں وہ خود کو ويران اور تنہا محسوس کر رہا تھا اس نے اپني پگڑي اتار کر گھٹنوں پر رکھ لي، ويراني کا احساس اس کے اندر بڑھ رہا تھا، اس ويراني کا احساس جو ملکھي کے انگار نے اس اندر پيدا کيا تھا۔
ايک روز ملکھي نے کہا سن فضل دين کے سورے زبردستي کے سودے نہيں ہوتے، ميں اگر مجبور بھي کروں تو اپنے دل کو تيري راہ پر نہيں لاسکتي، پھر اس سارے، جھگڑے سے کيا فائدہ، ملکھي نے چارے کے بڑا سا گھتا اٹھايا تيا اور آگے چل دي تھي، اس نے آگے بڑھ کر ملکھي کا بازو پکڑنا چاہا تھا ليکن نہ جانے کيوں وہ پانے اندر سکڑ کر رہ گيا تھا، حالانکہ وہ نہ جانے کب سے اپنے آپ کو ملکھي کي راہ ميں کھڑا پايا تھا۔
ملکھي کا سادہ لباس اس کا دراز خوبصورت وجود اس کي آنکھيں جو سبز کھيتوں پر چمکتے ستاروں سے زيادہ روشن لگتي ہيں، ملکھي ٹھيک ہي تو کہتي ہے دل پر کيا زور اور اس کا دل ہميشہ کي طرح ملکھي کو ديکھ کر زور زور سے دھڑک رہا تھا اور ملکھي کے انکار کا تيز لاوا تھا جو اس کے سارے وجود کو اس کي آنکھيں جو سبز کھيتوں پر چمکتے ستاروں سے زيادہ روشن لگتي ہے۔
ملکھي ٹھيک ہي تو کہتي ہے دل پر کيا زور اور اس کا دل ہميشہ کي طرح ملکھي کو ديکھ کر زور زور سے دھڑک رہا تھا، اور ملکھي کے انکار کے انکار کا تيز لاوا تھا جو اس کے سارے وجود کو جلا رہا تھا، وہ اپنے کھيت کي مينڈ کو پھاوڑے سے ہموار کرنے لگا پھاوڑا تيز تيز چل رہا تھا، اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اسي پھاوڑے سے اپنا سينہ چير ڈالے اور اس کو نکال پھينکے جو صرف ملکھي کے بارے ميں سوچتا رہتا ہے، اس روز سورج کا چہرہ فصلوں کي ہريالي پر جھکا ہوا تھا اور نيلا شفاف آسمان بہت ہي نکھرا ہوا اور اجلا لگ رہا تھا، آسمان کا رنگ ملکھي کے چہرے سے زيادہ من بھاتا تو نہيں تھا وہ اپني سوچ پر بے لسي سے کھڑا رہ گيا تھا ہوا رات کي سياہي ميں کھلي فصلوں پر بہہ رہي تھي اور اس کے اندر کي آگ اسي طرح مہک رہي تھي کيا يہ آگ ملکھي کے خون نے ٹھنڈي کر دي تھي۔
ملکھي جو حيسن علي کے پيچھے ديواني ہوکر اسے بھول بيٹھي تھي، ملکھي جس نظروں سے حسين علي کے سوا اور کوئي سماہي نہ سکا، کھيتوں سے سرکارمدھم شور اٹھ رہا تھا ملکھي آخري سانسيں لے رہي تھي جيسے وہ اس کے سامنے پڑي کراہ رہي ہو جيسے کہہ رہي ہوں حسين علي۔۔۔۔حسين علي فضل دين نہيں۔ وہ کچھ نہيں سننے کي کوشش شايد اس کي کراہيں اس کا پيچھا کرنے لگي ہيں تم ميري کراہوں سے اتني جلدي پيچھا نہيں چھڑا سکو گے فضل دين، جيسے ملکھي کي آنکھوں کا کرب کہہ رہا ہو اس نے خون آلود پھارے کو ديکھا جو ابھي تک اس کے ہاتھ ميں تھا، خون جو ملکھي کے چہرے پر شفق بن کر دہکتا تھا، اس نے ايک دم پھاوڑے کو اپنے ہاتھوں سے پھينک ديا اور آگے چل پڑا ليکن اسے لگ رہا تھا کہ اس کي ٹانگين بوجھل ہوکر اس کے جسم کو نيچے کي طرف گھسيٹ رہي ہيں۔
صبح ہونے ميں تو ابھي بہت دير ہے اس نے مشرق کي طرف ديکھتے ہوئے سوچا مجھے چلنا چاہئيے پوليس ميرے تعاقب ميں ہوگي ليکن وہ تو بس ملکھي کے بارے ميں سوچے جا رہا تھا، دم گھونٹ دينے والا سناتا اس کےسب طرف پھيلاہوا تھا دور کسي درخت پر ايک الو تيز چيختي ہوئي آواز ميں بولا۔۔۔۔ہو۔۔۔۔ہو۔۔۔ہو۔
ميري روح کا بوچھ ہٹ جانا چاہئيے تھا، ليکن ميں تو اس سے بڑھتے بوجھ ميں پس رہا ہوں، وہ وہاں کھڑا ہوگيا، جيسے اسے کہيں نہ جانا ہو، ملکھي نہيں رہي، دکھ کا انجانہ ہاتھ اس کے دل کو مسل رہا تھا تو ملکھي نہيں رہي نيلي بار کي سب سے خوبصورت عورت، وہ سوچوں کے دھارے ميں ڈوبا، وہاں کھڑا رہا تھا، وہاں جہاں سے کوئي رہ نہ جاتي تھي، سب راہيں مٹ گئي تھيں کيونکہ اب دنيا ميں ملکھي نہيں تھي اس کے اندر آگ دہک رہي تھي، يہ سناٹا اتنا گونج کيوں رہا ہے، مجھے ڈر لگ رہا ہے، مجھے ڈرنا نہيں چاہئيے، نيلي بار کے جوان اور گھوڑوے برابر کے بانکے  اور سجيلے لگ رہے تھے، انہوں نے اپنے گھوڑوں کو اپني بھينسوں کو دودھ پلا گھي پلا کر جوان کيا تھا ان کے بھورے چکنے بدن اور سياہ چمکيلئے زم زمين کو نرم کر رہے تھے راکھے باگوں ميں پکڑنے کي کوشش ميں پسينہ پسينہ ہو رہے تھے دراز قد جوان پگڑيوں کے شملوں کو
پچھلا صحفہ (1) اگلاصفحہ
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu