اکڑاتے اتراتے پھر رہے تھے، ان کے دہکتے چہروں اور روشن
آنکھوں کي جوت دن ميں بھيتاروں کي مانند روشن تھي، سورج کا تھال کا تک کي نئي سردي
کي سوچ ميں ڈوبا ہوا گائوں کي دھول بکھري گليوں کے اوپر جھکا ہوا تھا۔
حسين علي نے اپني سياہ چمکيلي زلفوں پر بڑے بانکے انداز ميں پگڑي باندھ رکھي تھي،
اور چپ چاپ اپنے سياہ خوبصورت گھوڑے کي پيٹھ پر ہاتھ پھيرتا بار بار چمکاتا ہوا
ادھر ادھر ديکھ رہا تھا، ملکھي اللہ داد چاچا کي حويلي کي ديوار کے برابر اپنے گھر
کے صحن ميں کھڑي تماشا ديکھ رہي تھي، اس کا سبز دوپٹہ سنہرے چہرے کے گرد ہميشہ کي
طرح کھل رہا تھا، حسين علي نے ايک اس کي طرف ديکھا ساعت اور پھر اپني بھينس کو کھوہ
پر پاني پلانے چل پڑي، اس کا باپ اور فضل دين بھي اس ميدان ميں موجود تھے، اس نے
حسين علي کي طرف مسکرا ديکھا تھا، اوہ وہ خود حيران رہ مجھے جسے سب ہي ديکھتے ہيں،
ملکھي کو اپنے آپ ايک دم حقير اور بے معني سا لگنے لگا، وہ بلا وجہ ہي اپني بھينس
کو پيٹنے لگي، فضل دين نے اس کو ديکھا تھا وہ گھوڑے کو پاني پلانے کے بہانے کھوہ پر
آگيا تھا ملکھي مجھے پاني نہيں پلائوں گي؟ ساري بات اپنے اندر کي گہرائيوں کي پياس
کي تھي، ملکھي مسکرائي، فضل دين بھلا کون ہے جو يوں اکڑ کر کھڑا ہے، جيسے ہمارے
گھوڑوں سے بڑھيا ہے نا اس کا گھوڑا۔
ملکھي نے فضل دين کي اوک ميں پاني انڈيلتے ہوئے سوچا، فضل دين ايک ساعت کو سر اٹھا
کر ديکھا، شک کا غير احساس اس کے اندر بھرا تھا ليکن ملکھي ميں اڑتے تو اسے ديکھ کر
مسکرا رہي تھي، سورج کا چمکيلا تھا آموں کي جھنڈ کے پيچھے چھپ سا گيا تھا، ہوا کے
ساتھ گرو کے نھنے نھنے بگولے ميدان ميں اڑتے پھر رہے تھے، اس نے پاني کے مشکيزے کي
اوت ليکر ايک بار پھر حسين علي کي طرف ديکھا، پھر نہ جانے اس کے دل کے اندر کيس
ويراني بھر گئي اس نے واپس جاتے ہوئے اندر نہين ديکھا تھا، اس کے پائوں اٹھ بھي تو
نہيں رہے تھے، يہ مجھے کيوں نہيں ديکھتا وہ سوچ رہي تھي، وہ سب اپنے شنگارے ہوئے
گھوروں کي ملائم پشتوں پر سوار ہوگئے، بيل گاڑيوں پر ان کي ضرورت کا سامان لدا ہوا
تھا، اور بيلوں کے گلوں ميں پڑي ہوئي گھنٹيان گرد آلود ہوا ميں دير تک سنائي ديتي
تھي، وہ سب شہر کي طرف مڑ گئے تھے، مويشيوں کے بڑے ميلے ميں حصہ لينے کے لئے، ملکھي
اس خالي راہ کو کھڑي ديکھتي رہي تھي، جس راہ سے وہ چہرہ چلاگيا تھا، يہ چہرہ اس کي
ياد کي سطح ميں گہرا ساکھد گيا تھا، شايد اس لئے کہ ملکھي نے تو اسے ديکھا ليکن اس
نے ملکھي کو نہيں ديکھتا تھا۔
پورے چار دن ملکھي اس راہ ہو کر کھيتوں کو جاتي رہي تھي، وہ چند لمحے رک کر شہر سے
آنے والي راہ کو ديکھتي اور اس کے اندر غصہ بھرنے لگا اپنے نظريہ انداز کئے جانے کا
غصہ۔۔۔پر ميں کس کي راہ تک رہي ہوں۔۔۔۔۔کيا وہ اس راہ پر واپس آئے گا؟ اسے پتہ چل
جائے گا کہ ميں اس کي راہ ديکھتي ہوں پھر وہ بے جان قدموں سے اپنے چوتھے روز جب
گھوڑوں اور بيل گاڑيوں کا قافلہ خوشي کے ڈھول بجاتا گائوں کي گليوں ميں داخل
ہوا تو وہ بھي شور کرتے بچوں اور گائوں کے دوسرے لوگوں کے پيچھے کھڑي خوشي کي
انجاني روشني ميں گلابي ہو رہي تھي، مراثي ڈھول بجا رہے تھے، چاچا کي حويلي کے
سامنے رنگين پايوں والي کھاٹيں برابر بچھي تھيں، کامے خاطر رواضع کرتے تيز تيز
قدموں سے آجا رہے تھے، ملکھي اپنے صحن کي ديوار کي اوٹ ميں کھڑي اس رونق اور
شور ميں اس چہرے کو ڈھونڈنے لگي، جوا سے کہيں نظر نہ آرہا تھا، تو بغير کسي سبب
کے مسکرانے لگي تھي، اس نے ماں سے بڑي منتوں سے موٹي طل کا نيا سبز دوپٹہ مانگا
تھا، آنکھوں ميں دئيے کي لو پر بنائے گئے، کا جل کي تيز لکير لگائي تھي، کيوں
ملکھي کہاں جارہي ہو؟ ماں نے ڈانٹا تھا ليکن اسے ماں کي ڈانٹ کي ذرا بھي بري
نہيں لگتي تھي، وہ تو صرف ايک بار اس چہرے کو ديکھنے جارہي تھي، ماں ذرا رونق
ديکھ رہي ہوں، روز روز تو ايسي رونق نہيں ہوتي نا ماں، وہ کچھ اور آگے بڑھ گئي،
وہ ميري طرف نہيں ديکھ رہا۔۔۔۔۔وہ دل ہي دل ميں رنجيدہ ہوگئي تھي۔
جوانوں کي تيز تيز باتيں قہقہے بچوں کا شور مراثي کے ڈھول کي بھاري آواز ليکن
اسے لگ رہا تھا، جيسے اس کا دل اس کے پہلو ميں ٹہر گيا ہو، سب طرف ڈھول اڑ رہي
ہو وہ کھڑي رہي اور پھر واپس آکر چار پائي پر بيٹھ گئي، اس نے اپنے نئے دوپٹۓ
کو اتار کر بے دلي سے پھينک ديا، اور وہي ہي سيادہ دوپٹہ اوڑھ ليا جو بد رنگ ہو
چکا تھا، ہوا ہولے ہولے اڑ رہي تھي مکئي کي باس، گنے کي ميٹھي باس اور
گرد کي باس، سب کچھ اس کے بھاري ذہن پر تير رہا تھا، باہر گيس کے ہنڈولوں کي
تيز روشني ميدان کو جگمگا رہي تھي ميں نماني ہنجوان ماري۔۔۔۔صالو
بھيو۔۔۔۔۔مراثي کوئي نيا گيت گا رہا تھا، وہ اٹھ کھڑي ہوئي، کيسا اداس گيت گا
رہا ہے، کيسا غلط گيت ہے، يہ وہ آسمان کي طرف ديکھتے ہوئے بولي آسمان سياہ تھا،
اور ستارے جيسے بہت دور چمک رہے تھے، جي آيا نوں جي آيا نو، اس کي مان کہہ رہي
تھي، اس نے سامنے ديکھا وہ خوبصورت دہکتا چہرہ اس کا سارا وجود |