ٹيلي فون ايکسچينج کي نئي عمارت بن رہي ہے، عورتوں اور مردوں کا
حجم غفير سروں پر ٹوکرياں اٹھائے ايک دوسرے کے پيچھے چپ چاپ چلتے ہوئے آئے جارہے
ہيں، مصالحہ ملانے والي مشين کي آواز کام کي نگراني کرنے والوں کي آوازوں اور باہر
سڑک پر آتي جاتي گاڑيوں کے تيز ہارن مل کر بھي اس خاموشي کو توڑ نہيں سکتے جو
مزدوروں کے چہروں پر گہري کھدائي ہوئي ہے ، وہ مسکرانا نہيں جانتے شايد جيسے قسمت
کے مضبوط ہاتھوں نے انہيں ان ديکھي رسي سے باندھ رکھا ہو اور انہيں مسلسل حرکت دے
رہے ہوں۔
ميں باہر کي چار ديواري کے پاس بنے کيبن ميں بيٹھا لگاتار سگريٹ پھونکتا رہتا ہوں
يا جواناوڑ مزدور عورتوں کو خاموشي سے گھورتا رہتا ہوں، ان کي رنگين کپڑے جب پسينہ
سے شرابور ہو کر جسموں سے چپک جاتے تو ميرا دل تيزي سے دھڑکنے لگتا ہے، ميں سلطانہ
کے جسم کے زاويوں کو ديکھتا ہوں تو ميرا سارا جسم لذت بھري خواہش سے اينٹھنے لگتا
ہے، تب دوسري ساري آوازيں صرف ايک آواز ميں ڈھل جاتي ہيں، سلطانہ کے کرتے کے دامن
سے بندھے چھوٹے چھوٹے گھنگرون اور اس کے چڑکلے سے بندھي نھني نھني چاندي کي گھنٹياں
اس کے ہر اٹھتے قدم کے ساتھ مجھے ايسا لگتا ہے جيسے سلطانہ ہولے ہولے سسکارياں بھر
رہي ہو، اپني قسمت کا ماتم کر رہي ہو، اس کا خوبصورت سانولا چہرہ گہري سرخي سے تب
جاتا ہے، اس کے قدم ست پڑجاتے ہيں تو اس کا شوہر اسے ڈانٹنے ہوئے کہتا ہے، کيا موت
پڑگئي ہے، جو تو يوں چلے ہے، بھگ بھگ نہيں تو يوں جوتياں ماروں گا کہ ياد ہي کرے
گي، سلطانہ کا چہرہ ايک دم راکھ ہوجاتا ہے، اس کے قدم تيز ہوجاتے ہيں، نھنے نھنے
گھنگرو چھنکتے ہيں اور ميرا جي چاہتا ہے ميں آگے بڑھ کر اس کو اپنے بازئوں ميں سميٹ
لوں ليکن ميں ايسا نہيں کرسکتا، اس کے شوہر کا مضبوط جسم اور اعتماد سے پر چہرہ ايک
خوف بن کر ميرے اندر سماجاتا ہے، ميں سوچتا ہوں ميں کسي نہ کسي روز سلطانہ کو لے کر
اس دھوپ بھري دوپہروں اور اس کے شوہر کے قہر بھرے چہرے سے دور لے جائو گا، تب
اس کا جوان خوبصورت وجود زيادہ اجلا ہو جائے گا، ميرا قصور نہ جانے کہاں کہاں
بھٹکنے لگتا ہے ميں سوچتا ہو مجھے سلطانہ سے محبت ہے، ليکن ميں اس سے محبت نہيں
کرتا، بس خوف اور خواہش کے درميان معلق ميں تيزي سے سگريٹ کے کش کھنچتے ہوئے
ايک بھڑکتا سا عاشانہ پنجابي گيت گنگنانے لگتا ہوں، ايسا گيت جس ميں جسم کا ذکر ہے،
جواني کا ذکر ہے، اور يہ جسم سلطانہ کا جسم ہے، يہ جسم ميرا جسم ہے، ميرا انہاک
چھوٹے سے بچے کي بھوک سے بلبلاتي چيخ سے ٹوٹتا ہے، خدا کي نا انصافيوں پر پہلا
احتجاج۔
دوسري مزدور عورت رضيہ ميرے کيبن کے پاس آکر رکتي ہے، اس کا کرتا بہے دودھ سے بھيگا
ہوا ہے، اس کے کانوں کي بالياں اور ناک کي لونگ پسينے اور گردن سے ميلي ہورہي ہے،
ليکن اس کے چہرے پر مامتا کي لپک نے اسے جاندار مجسمے ميں ڈھال ديا ہے، ميں
گانا بند کرديتا اور سوچتا ہوں يہ بھيگا ہوا جسم بھي عورت کا ہے ليکن ميں اس کے
بارے ميں کچھ بھي نہيں سوچ رہا اور منہ پھير کر بيٹھ جاتا ہوں، ميرا ذہن عورت
کے اس روپ کو قبول نہيں کرتا، عورت تو صرف عورت ہے جس کے جسم کے کتنے زاوئيے
مرد کو مدہوش کرديتے ہيں، اسکے اندر کا شيطان پوري طرح چوکس ہوجاتا ہے ميں رضيہ
کو ديکھ کر مسکراتا ہوں ليکن وہ اپنے بچے پر جھگي سے چوم رہي ہے اور پھر
اسے ميلے کپڑے پر لٹا کر واپس چلي جاتي ہے، اور مجھے ايسا لگتا ہے جيسے مجھے اس
نے دھتکار ديا ہو ميرے اندر کا مرد تلمانے لگتا ہے، با اختيار اور خود پسند
مرد، سورج آسمان پر سفر کرتا ہو مغرب کي طرف جھک گيا ہے نگراني
کرتے کارندے تھکن سے نڈھال عورتيں گھٹے ہوئے جمسوں والے جوان مرد ميرے کيبن کے
سامنے اکھٹے ہورہے ہيں، گرد آلود ہوا بجري کے ڈھيروں اور بگھري ہوئي ريت پر
آہستہ آہستہ رنگ رہي ہے، اور عورتوں کے بدبو دار کپڑوں ميں سے گزرتي ہوئي چاروں
طرف گھوم رہي ہے، سلطانہ نے اپنے گہرے سياہ دوپٹے کے پلو سے اپنا منہ پونچا ہے
اور چپ چاپ اپنے شوہر کے پاس کھڑي اپني مزدوري کي منتظر ہے، ٹھيکدار اپني سياہ
ٹيوٹا گاڑي کو تيزي سے اندر لاتے ہوئے ايک دم روکتا ہے اور تيز تيز قدم رکھتا
کيبن ميں آکر ايک کرسي پر بيٹھ جاتا ہے، ميں رجسٹر ميں نام لکھتا جاتا ہوں اور
بڑھے ہوئے ہاتھ پر نوٹ رکھتا جاتا ہوں، ميں جانتا ہوں سلطانہ کا ہاتھ چاندي کي
انگوٹھيوں کا بوجھ سنبھالے آہستہ سے آگے بڑھے گا اور پھر ليکن نہيں ميں ايسا
نہيں کرسکتا، ٹھيکدار مسکرا کر اس کا حال پوچھتا ہے وہ مسکراتي ہے ليکن خوفزدہ
سي اپنے شوہر کو ديکھتي ہے، اور ميرا جي چاہتا ہے کہ ميں ٹھيکدار کو اٹھا کر
باہر پھينک دوں ليکن ميں ايسا نہيں کرسکتا، ميں جو سارا دن اس چھوٹے سے کيبن
ميں پنکھے کے نيچے آرام سے بيٹھا رہتا ہوں، اتنا ہي بے بس ہوں، ٹھيکدار کے
سامنے ہاتھ پھيلانے والا پڑھا لکھا مزدور۔۔۔۔۔ميں نے سلطانہ کے ہاتھ ميں روپے
رکھتے ہوئے اسے آہستہ سے چھوا ہے اور ميرے سارے جسم ميں سنسني سي دوڑ گئي ہے ،
ميرا سارا جسم ايک دفعہ پھر خواہش سے تب گيا ہے۔ |