Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children


  اردوادب | افسانے |  سلمي صديقي
جينے کي راہ
لائو ميرے بنج ہجار، جائو جہاں مر جي جائو، لائو ميرے بنج ہجار، سلطانہ وہي زمين پر بيٹھي بين ڈالنے لگي، ميں اس کے پاس جا کر اسے تسلي دينا چاہتا تھا، ميں نے کہا سلطانہ تمہیں ايسا نہيں کرنا چاہئيے تھا، قبيلے والے عزت دار آدمي ہيں، کاي تم محبت دار نہيں ہو، تم اپني جورو بيٹي سے کام کيوں نہيں کرواتے، کيوں انہيں گھر کي چار ديواري ميں سنبھال کر رکھ ہو، اس لئے تاکہ وہ تمہاري محبت ديکھ رہي تھي، جيسے اس کے اندر سے سارے دکھ سکھ کے جذبات بنجر ہوگئے ہوں۔
کہاں سے دوگي پانچ ہزار نواب کو، جانتي ہوں پانچ ہزار جمع کرنا کتان مشکل ہے، ميں کچھ کہتے کہتے رک گيا، نواب نے بھي تو کھريدا ہے نام مجھے اب ميں اپنے کو اپني مرجي سے بچوں گي، اپني مرجي گا گاہک کے پاس، اور اس کي چيخيں ايک دم بلند ہوگئيں، احتجاج کرتي ہوئيں، وہ اپني زندگي ميں آئي ساري محروميوں کا ماتم کرتي تھي، شايد اور وہ سارے خاموش اسے ديکھ رہے تھے، خوفزدہ ليکن  بھپرے ہوئے، پہلوان کي دکان کے تھڑے پر کھڑا اس سارے تماشے کو ديکھ رہا تھا، وہ پہلے کي طرح اندر نہيں آيا، ليکن تيزي سے سگريٹ کے کش لگاتے ہوئے اور گاڑھے دھوئيں کو باہر نکالتے ہوئے وہ بہت چين لگ رہا تھا، ميں اس کے پاس چلا گيا اور کہا، پہلوان جي نہ جانے کون سا بانکا سلطنہ کا دل جيت کر لے گيا ہے، کچھ جانتے ہيں آپ؟ سلطانہ سے جاکر پوچھو مجھ سے کيا پوچھتے ہو، سالا مارتا ہے اور سوچتا ہے کہ وہ اس سے ہميشہ محبت کرتي رہے گي، صاحب عورت کا دل کانچ کا ہوتا ہے، مارو گے تو ضرور ٹوٹے گا اور وہ تيز تيز بازار ميں مڑ گيا، پہلوان کي دکان کا چولہا ٹھنڈا تھا۔
کام ہميشہ کي طرح ہو رہا تھا، مزدور سڑک کے کنارے روڑي ڈھيرے پر بيٹھے روڑي کوٹ رہے ہيں اور آپس ميں فحش مذاق کررہے ہيں، خواہش، خريدي گئي عورتيں، سروں پر اٹھايا، دنيا کي تماشا گاہ ميں انساني بازي گر کي طرح زندگي کے تنے رسے سے پھر چلنے کي کوشش ميں گر گر پڑتاہے ، نواب سلطانہ ميں پہلوان اور دنيا کے سارے انسان ليکن پھر بھي چلنے پر مجبور ہيں۔
ميں نے جاتے جاتے سلطانہ کو مڑ کر ديکھا ہے، نواب سلطانہ کے پاس بيٹھا روٹي کھا رہا ہے، صبح  کي ساري بات ايک تماشا لگتا ہے، ميں مسکراتا ہوں، سوچ کے کتنے انداز ہيں، سرديوں کا چاند عمارت کي بلندي پر جھکا نيچے جھانک رہا ہے، چولہوں سے اٹھتا دھواں دھند ميں شامل ہوا کر اسے بھي گہرا کر رہا ہے، دھند ميں لپٹے انسان کي کوشش، اور چاند اکيلئے مسافر کي طرف اداس چہرہ لئے دھند کے ہلکے ہلکے بادلوں ميں محو سفر، راہيں ہي راہيں، منزل کے بغير۔
سلطانہ بھاگ گئي، گيٹ ميں داخل ہوتے ہي ايک مزدور بھاگا ہوا آيا، ميں نے مڑ کر پہلوان کي دکان ديکھي وہ بند تھي، پتہ نہيں کس کے ساتھ، وہ نواب کيلئے پانچ ہزار چھوڑ گئي ہے جي، پورے پانچ ہزار بڑي خراب تھي جي وہ تو ہم نواب کا لحاظ کرتے رہے نہيں تو ہم بھي پيسے دے سکتے تھے، پتہ نہيں کون سالا بھگالے گيا سالي کو، وہ زور سے ہنسا چپ کر بند کرو يہ بکواس ميں چلايا اور مجھے لگا ميرے جسم سے کوئي چيز ہولے ہولے زمين ميں اتر رہي ہو،  سلطانہ کے رشتہ دار سب چپ چاپ دائرے ميں بيٹھے باري باري حقے کي نوک کو تھامتے ہوئے حقہ پي رہے تھے نواب ہاتھ ميں پانچ ہزار روپوں کي گھتي تھامے انہيں بار بار غور سے ديکھ رہا تھا، اور سلطانہ کي ساس اپنے نومولود بچے کو دودھ پلاتے ہوئے بول رہي تھي، اگر کوئي جنا ہوتا تو وہ يوں نہ بھاگتي، مائوں ميں جنجير جو ہوتي، اور يہ بناب بھي تو دان رات مارتا تھا، سوچے تھا عورت ناس جنور ہے، جنور گائي بھي سوٹي کاھنے پر رسہ تڑانے ہے وہ تو آخر جناني تھي جلم کے ساتھ کب تک نبھاتي، جيادہ نخشان نہيں ہوا ماں، اب ميں کوئي ہجار دو ہجار والي عورت بياہ لوں گا، تين ہجار پھر بھي منافع ہو نا اماں، اور وہ بڑے اطمينان سے روپوں کو اپنے صافے کے پلوں میں باندھ کر اور اماں کو ديتے ہوئے بولا، پنج ہزار کو جمع کرتے کرتے ميں تو اپني آدھي جواني بتاديتا، ليکن سلطانہ ايک ہي بلے ميں مجھے امير بناگئي اور وہ ہنسنے لگا، مجھے لگا جيسے وہاں پر بيٹھے سارے مرد خوفناک غفريت ہوں، جو عورتوں کو منہ ميں پکڑے انہيں بھنھبور کر کھا رہے ہوں، باقي صرف نواب کو ديکھنے لگے اور پھر ايک ايک کرکے عمارت کي طرف بڑھ گئے، عورتوں نے اپنے بچوں کو چار پائيوں پر لٹا ديا، اور مردوں کے پيچھے چل پڑيں۔
ميں کھڑا سوچ رہا تھا کہ کيا سلطانہ ايک حقيقت تھي يا سايہ، کيا اس کے دامن کے نھنے گھنگرو کي آوازيں ميں نے کبھي سن تھي يا ميرا تصور ہي تھا، ميرا دل بوجھ گلے دبا جارہا ہے،معلوم نہيں يہ بوجھ سلطانہ کي کھوجانے کا ہے يا اپني محرومي کا، اور کيا سلطانہ جينے کي راہ کي کھوج لگانے نکلي ہے اور کيا، راہ سے مل جائے گي، بھولا پہلوان کي دکان بند ہے اور ايک کتيا اپنے بچوں کو لئے ٹھنڈے چولہے کي راکھ ميں بڑے اطيمنان سے بيٹھي ہر آہٹ پر اپني آنکھيں کھولتي اور پھر بند کرليتي ہے۔
پچھلا صفحہ (6) اگلا صفحہ
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu