گلابي اور جسم گداز، اس کے حسن ميں صبح بنارس کي دلکشي تھي اور ہونٹوں پر ہر وقت
ايک مسکراہٹ کھيلتي تھي، اس سے آنے سے ان کواٹروں ميں بسنے والے نوجوان کي تو
مانو کايا پلٹ گئي تھي، اب چقوں اندر زندگي حرکت کرنے لگي، اور چقین بھي ہر وقت
پڑني نہيں رہتي تھيں، ہر نوجوان سليقے سے کپڑے پہنتا روز قہقہے لگانا اور ہميشہ
بال سنوارنے کے گھر سے باہر نکلتا، جب وہ صبح پڑھانے اسکول جاتي تو اکثر نوجوان
اس کے استقبال کيلئے کھڑے ملتے، آہيں بھرتے سيٹياں بجاتے ايک دوسرے کے گلے ميں
باہيں ڈال ديتے ليکن ايملي دوسري لڑکيوں کي طرح ان نوجوانوں کو ديکھ کر جھجکھتي
نہيں تھي، وہ بے نيازي سے گزرجاتي ، اس سے ان کے تن بدن ميں آگ لگ جاتي وہ
سمجھتے کہ عيسائي لڑکياں چٹکياں بجاتے بغل ميں آجاتي ہيں وہ چلاتے ذات کي
عيسائي اور نخرے ديکھو اور پھر دھيرے سے کہرے حرام زادي۔
کواٹروں ميں رہنے والے ہندو بوڑھے اس عيسائي فيملي کے آجانے سے بہت ناخوش تھے
اس سے ايک طرف تو انہيں اپنے لڑکوں کے بگڑ جانے کا انديشہ تھا اور پھر چھوٹ
چھات کے بڑے قائل تھے، ان کي عورتيں ہميشہ ساڑھي کو پنڈالي پر سے اوپر اٹھا کر
چلتي تھي کہ کسي ناپاک چيز سے ان کا دامن نہ چھوجائے، چاہے جسم ننگا ہو ليکن
چھوت چھات زندہ باد، ايملي کي ماں بھي کون سي کم تھي، وہ خود بھي ہندو، مسلمان
اور حيراني کي بات تو يہ کہ عيسائيوں سے بھي ميل ملاپ نہيں رکھتي تھي، کسي
برادري والے کو اپنے خوند جا حقہ پينے نہيں ديتي تھي، اگر کوئي چيز بھولے بھٹکے
پڑوس سے آبھي جاتي تو وہ بچوں کو کھانے نہيں ديتي، ايک کونے ميں رکھ ديتي اور
جب حلال خور آتا تو اسے دے ديتي، وہ ہر وقت يہ جتانے کي کوشش ميں لگي رہتي کہ
تم لوگ کون ہوتے ہو پرہيز کرنے والے ميں خود تم لوگوں سے ملنا نہيں چاہتي اور
نہ پسند کرتي ہوں، بات دراصل يہ تھي کہ ايملي کي ماں ذات کي برہمن تھي چھوت
اچھوت پر ايمان رکھنے والي کڑ برہمن پھر پچپن ہي ميں وہ ايک برہمن سے بياہ دي
گئي ليکن خدا کو کچھ اور ہي منظور تھا، جواني ميں ايملي کے باپ پر وہ بري طرح
ريجھ گئي اور براہمنوں کي تاريخي چھت چھات ہٹ دھرمي اور نفرت دھري کي دھير رہ
گئي، اور وہ گھر چھوڑ کر اس اچھوت کے ساتھ بھاگ کھڑي ہوئي اور خود بھي عيسائي
بن کر اچھوت ہوگئي تھي،
ايملي اور اشاکا کي آپس ميں خوب گہري دوستي ہوگئي، جب بھي وقت ملتا وہ سر جوڑ
کر بيٹھي رہتيں باتيں کرتي رہتيں تھيں، جب سے ايملي نے اوشاکا کو بتايا تھا کہ
آج چھ سال سے نوکري کرکے وہ اپنے ماں باپ کا پيٹ پال رہي ہے، تو اوشاکا کے دل
ميں اس کيلئے ہمدردي اور قدر پيدا ہوگئي، ليکن محلے والے ان کي دوستي سے جلنے
لگے، وہ کہتے کہ آخر لڑکي کے ساتھ اتنا اٹھنا بيٹھنا
کيوں؟ بات دراصل يہ تھي کہ ايملي اور کسي سے بھي بات نہ کرتي تھي۔
يوں ہي کچھ دن بيت گئےمحلے والے پہلے سے بھي زيادہ ايملي سے جلنے لگے، طرح طرح
کي بے تکي باتيں کر کرے اسے بدنام کرتے پھرتے خاص کرکے ساتھ کي کوٹھي کے جج
صاحب تو بہت ہي باتيں بناتے، کيونکہ ان کو بڑا دکھ تھا کہ ايملي ان کي طرف نگاہ
اٹھا کر کيوں نہيں، انہوں نے کتني بار ايملي کو پھولوں ميں لپيٹ کر تحفے بھيجے
ليکن ايمليي نے ہميشہ واپس کر دئيے اس پر ان باتوں کا قطعي اثر نہ پڑتا تھا،
اسے وہ اپني سخت توہين سمجھتے اور اپنے غصہ کو ايملي کو گندي گندي گالياں بک کر
ٹھنڈا کرتے پھر انہوں نے سوچ بچار کر ايک اور راستہ سوچا وہ ايملي کے والدين سے
تعلقات بڑھانے اس کے گھر جا کے اٹھنے بيٹھنے لگے، اس طرح وہ آنکھيں بھي سينک
ليا کرتے تھے اور اپني اسکيم بھي سوچتے رہتے، ليکن ايملي کو تو جج صاحب کي شکل
تک سے گھن آتي تھي، چھوٹا سا قد چيچک کے بد نما داغوں سے بھرا ہوا چہرہ اور
چياں سي آنکھيں جنہيں ديکھتے ہي نفرت سے منہ پھر ليتي، اس کے دل ميں تو احمد
رضا کے سوا کسي کا دھيان بھي نہ آتا تھا، احمد رضا جو مردانہ حسن کي منہ بولتي
تصوير لگتا تھا وہ اس کا نکلتا ہوا قد چہرے کے جميل خدو خال اور شجاوت
اور حوصلے سے معمور دل موہ لينے والي آنکھيں، يکا يک کچھ دن بيمار رہ کے ايملي
کے والد کا انتقال ہوگيا، يوں محلے والوں کے دم رہا سہا لحاظ بھي جاتا رہا، اب
وہ کھلم کھلا ايملي کا مذاق کرتے اور جب انہيں معلوم ہوا کہ احمد سے محبت کرتي
ہے تو جيسے ان کي مردانگي کو ٹھيس پہنچي، جج صاحب سے سے زيادہ تلملائے ہندو
محلے ميں رہنے والي چھوکري اور ايک غير محلے کے آدمي سے عشق لڑائے اور وہ بھي
مسلمان ہے، پوچھو کہ بھئي تمہارے محلے ميں کيا مردوں کي کال پڑگئي ہے، جج صاحب
نے اسکيم کو اب عملي جامہ پہنانے کي ٹھان لي۔
آخر شہر کے جج تھے بڑے اثر و رسوخ والے آدمي تھے، بھلا يہ کون سي بڑي بات تھي،
ايملي اسکول سے نکال دي گئي، اس کا محبوب احمد کچھ دنوں کيلئے اپنے وطن پاکستان
گيا ہوا تھا، اور اس کي ماں سخت بيمار تھي، ايملي نے اوشا سے 20 روپے ادھار لئے
ماں کيلئے دو اور گھر کا راشن لائي ليکن يہ سب کتنے چلتا، جج صاحب کي عنايت اس
کے شامل حال تھي، اس لئے کسي دوسري جگہ نوکري ملنے کي اميد نہ تھي مکان کا
کرايہ اور ڈاکڑ کا بل اس کي جواني کي طرح قابو سے باہر ہوتا جارہا تھا، ايملي
کا سر چکرا رہا تھا، اس نے اپنے آويزے بيچ ڈالے پھر ساريا بچپن اور آخر ميں
رکھي ہوئي دو کرسياں بھي بيچ ديں، ليکن حالات نہ سدھرے نہ ماں کي بيماري نے
چھوڑ اور نہ فکروں نے ايملي کو۔
اور آج دو وقت سے ايملي نے کچھ کھايا بھي نہيں تھا، ماں الگ صاحب فراش تھي اتنے
ميں جج صاحب آن پہنچے، ايملي رو پڑي جج صاحب۔
چند نوٹ چھوڑ گئے اور يہ کہہ گئے ميں پھر آئوگا، ايملي بيٹھي
ان نوٹوں کو تکتي رہي۔۔۔۔۔دوا محبت۔۔۔۔محبت دوا اور بھوک۔
پھر رات آگئي، گہري اور ايملي کي نصب کي طرہ تاريک اور اس ميں احمد کي محبت کي
کرن اور ايملي کي ماں کا آخري سانس دونوں ڈوب گئے، اوشا کے روپے ايملي نے واپس
کردئيے وہ اوشا سے کھڑے کھڑے بھي بات نہيں کرتي بلکہ کہيں نظر بھي آجائے تو
ايملي اس سے نگاہيں چراليتي ہے، اوشا اس کي برہمي کي وجہ سمجھنے سے قاصر ہے اور
يہ تھي اور بھي الجھ جاتي جب اوشا ديکھتي کہ اب محلے کا کوئي نوجوان بھي ايملي
کے راستے ميں کھڑا نہيں ہوتا، کوئي اس پر آواز نہيں کستا کوئي اسے ديکھ کر سينے
پر ہاتھ نہيں رکھتا، برعکس اس کے اب تمام محلے والے اسے اسي قدر عزت کي نظر سے
ديکھتے ہيں جس طرح جج صاحب کو۔ |