اشرف کا دماغ چکرا رہا تھا بھولي ہوئي نوري۔۔۔شجاعت۔۔۔۔ کنيزہ
شجاعت کي محبت اس کي قرباني اور پر اس کا کيا ہوا گناہ عظيم ندامت سے اس کا سر جھک
گيا وہ گناہ گار تھا اور ہر سزا کا مستحق وہ واپس ہوا، يہ ديکھنے کيلئے
کہ کنيزہ کا کيا حال ہے، اس ذلت اس حيوانيت کے بعد وہ زندہ ہے يا نہيں؟
اس نے کمرے ميں قدم رکھا اور کنيزہ نے کھڑکي ميں وہ چلايا۔۔۔
کنيزہ کو ٹہرو ابھي کچھ نہيں بگڑا شجاعت تمہارا انتظار کر رہا ہے۔
اس کي تيز آواز گونجتي رہ گئي، کنيزہ سہ منزلہ عمارت کي کھڑکي سے کود چکي تھي اور
جب تک وہ نيچے اترا تو کنيزہ خاک و کون ميں لتھڑي، آخري سانس لے رہي تھي اور
اس واقعہ سے سامنے سڑک کے دوسرے چوارا ہے پر رائل ريستورنٹ ميں بيٹھا شجاعت اپنے
عہد کے پورا ہو جانے کے بعد اپني محبت کو پروان چڑھانے کے خواب ديکھ رہا تھا۔ |