خالہ نے کہہ ديا رشتہ دار ہے۔۔۔بھائي دوسرے شہر ميں نوکري کرتا
ہے، يہ ميرے پاس رہتي ہے، ميں کنيزہ کو ديکھا اچھي خاصي خوبصورت تھي،
ليکن امارات کا غرور، جھلکتا تھا، کنيزہ نے مجھ سے کہا کبھي کھي آجايا کروں
اوپر ميرے پاس، دن بھر اکيلي رہتي ہوں، پہلے تو نہ چاہا کہ ميں اک غريب يہ امير
کيا ميل ملاپ؟ ليکن اکيلے پن اور تنہائي کے احساس نے مجبور کرديا، دوپہر کو
کنيزہ کے پاس چلي جاتي، دو چار بار گئي تو کھل گئي ہنس ہنس کر باتيں کرتي، کبھي
کبھي ساتھ بيٹھ کے چائے بھي پلا ديتي، ليکن ميں اسے کے اميرانہ ٹھاٹھ سے ڈرتي
رہتي، ان ہي دنوں ميں ميں نے کنيزہ کے بھائي اشرف کو ديکھا، نہ جانے کيا ہوا
ميں انہيں پسند کرنے لگي، ان کي باتيں، ان کي عادتيں، ان کي شکل و صورت ہر چيز
مجھے پسند آنے لگي، پہلے ميں کنيزہ کے پاس جاتي تھي اور اب اشرف کے پاس ان سے
باتيں کرتي وہ مسکراتے، آنکھوں ميں آنکھيں ڈال ديتے، دل پھر دھڑک اٹھتا بس جي
چاہتا، ان کے پاس بيٹھي رہوں۔
ايک دن گئي تو کاغذ کے ڈبے ميں کوئي چيز لئے بيٹھے تھے، ميں نے پوچھا کيا ہے
کہنے لگيں، ساڑھي، تمہارے لئے لايا ہوں، پہن لينا، مجھے نہ جانے کيوں غصہ آگيا،
کہا، کيوں پہن لوں؟ بولے اچھي لگو گي، ويسے بھي تمہارے کپڑے ميلے رہتے ہيں، ميں
تنک گئي، غريبي کا زخم يہاں بھي تکيلف پہنچا رہا تھا، غصے بھرے لہجے ميں کہا،
ميرے ميلے کپڑے ہي ميري عزت ہے، ميں يہ ساڑھي پہن کر غربت کو دور نہيں بھگا
سکتي غريبي کي آغوش ميں پيداہوئي ہوں اور يہي آغوش مجھے قبر تک پہنچائے گي، يہ
ريشمي ساڑھي اور آپ کي دولت، ميري تقدير کو بدلنا چاہئے بھي تو نہيں بدل سکتي
اور ميں غصہ ميں بھر واپس ہو گئي، ميں نے ساڑھي تو واپس کردي تھي، ليکن دل ميں
بسي ہوئي اشرف کي محبت کو واپس نہ کرسکي خيال آيا تھا کہ وہ اپني دولت ہي کو سب
کچھ نہيں سمجھتے تو ضرور ميرے پاس آئيں گے۔ |