Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children


  اردوادب | افسانے |  سيد امرت
احد
دوسرے ہي دن ميرے پاس آئے، خالہ باہر گئي ہوئي تھي، وہ آکر بيٹھ گئے کہا نوري کل کي بات کا اتنا برا مان گئي؟ اگر مجھ سے غلطي ہو گئي توکيا ميري مہبت بھي اس نادانستہ غلطي کي نذر ہوجائے گي، تو کيا ميں يہ سمجھ لوں کہ تم ميري محبت کو صرف ايک کھيل سمجھتي ہو؟ ميں چپ رہي تو بولے تو بولے نوري خدا کيلئے مجھے اس طرح پريشان نہ کرو، ميں ان کا بے تابي لہجہ اور اڑتے ہوئے آنسوں ديکھ کر حواس کھو بيٹھي اور بے ساختہ ان کے قدموں پر گر گئي، انہوں نے مجھے ہاتھ پکڑ کر اٹھايا اور ميں جواني اور گناہ کے ميٹھے خوابوں ميں کھو گئي، ناداني تھي يا جواني کا تقاضا ميں نے اپنے آپ کو ان کے حوالے کرديا، گناہ کا بھيانک تاريک سايہ ميري زندگي پر چھاتا گيا، ہر رات، ہر تاريک اور ہر تنہائي مجھے پسند اور نہيں پسند تھي۔
دن گزرتے گئے اب مجھے آپ کي پرواہ تھي نہ خالہ جان کي ميرے پاس کسي چيز کي کمي نہ رہي، قيمتي لباس، سامان آرائش، نيلے پيلے سوٹ، سب چيزيں مجھے بلا قيمت مليں، ليکن مجھے ان سب کي قيمت ادا کرني پڑي، بہت بڑي قيمت ايک دن ميں نے محسوس کيا کہ ميرے اور اشرف کے ميل جول کا نتيجہ ظاہر ہو رہا تھا، ميں نے دبے الفاظ ميں يہ بات اشرف سے کہا وہ چپ رہے، ميں پھر کہا تو بولے نوري يہ بات تو ميرے خواب خيال ميں نہ تھي، کيا تمہیں يقين ہےکہ تمہارے جسم ميں پرورش پانے والي امانت ميري ہي ہے۔۔۔۔؟ اف ميں تڑپ گئي، کتني نفرت اور ذلت کا جذبہ تھا، ان ميں ميں روتي رہي سمجھ ميں نہ آتا تھا کيا کروں، کس سے کہوں؟ سوچا خالہ جان سے کہوں ليکن ان کي عادت اور غصے کو ديکھتے ہوئےہمت نہ ہوئي، خيال آيا، کنزہ سے کہوں، شايد وہ اشرف سے کچھ کہے، ڈرتے ڈرتے کنيزہ سے باتيں کہہ دي، پہلے تو چپ چاپ سنتي رہي پھر کہنے لگي، نوري ميں تمہيں ايسا نہ سمجھتي تھي، ميں نے اشرف سے تمہاري کہي ہوئي تمام باتيں کہيں تو وہ صاف انکار کرگيا، کہا ميں نوري کو اچھي طرح جانتا بھي بھي نہيں کيوں خواہ مخواہ اشرف کو بد نام کرہي ہو، ديکھو يہ گناہ جس کا ہے اس کے گھر جائو۔۔۔۔۔تمہارا يہ گناہ اب ايک دن بھي يہاں نہيں پل سکتا، بھائي بہن کے گٹھ جوڑ کے آگے ميں کيا کرتي؟ کنيزہ سب کچھ جانتي تھي ليکن اب بھائي کے نام پر آنچ رہي تھي، تو صاف انکار کرديا، يہ ميري ہي غلطي تھي، ميري ہي ناداني تھي اور اس کا خميازہ مجھے ہي ادا کرنا تھا، رات بھر روتي رہي سوئي، صبح کنيزہ نے ساري باتين خالہ جان سے کہہ ديں تھيں ان کا غصہ ان کي نفرت ان کي گالياں سب کچھ سننا پڑيں کہا ابھي چلي جا يہاں سے منہ کالا کر اپنا، کہا جاتي کس کے پاس جاتي؟ اشرف نے دھوکہ ديا تھا، کنيزہ نے منہ موڑ ليا تھا، خالہ آگ بگولگ ہو رھي تھي آپ کے پاس آنے کا منہ تھا خالہ سے کہا کل کہيں چلي جائونگي۔
پچھلا صحفہ (3) اگلا صفحہ
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu