Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children


  اردوادب | افسانے |  سيد امرت
احد
وہ تو اس وقت تو اپنے گھر ميں موجود ہوگي، ليکن رات گئے آئے يہاں۔
رات کو آئے گي تو کام کروادو نا اپنا۔
تم کہتے ہو تو مجھے کيا انکار ہے، آج ہي سہي، اشرف جھومتا ہوا چلا گيا، آج اس کي آغوش ميں ايک نئي جواني ہوگئي وہ کنيزہ کے پاس گيا اس سے باتيں کيں اسکے جذبات کو بھڑکايا اور آتے ہوئے کہتا آيا۔
آج رات کو نو بجے ميرے کمرے ميں آجانا۔
کنيزہ اس کي محبت کي ماري، بھلا کيسے انکار کرتي، کہہ ديا آجائوں گي، اشرف آٹھ بجے ہي آگيا بوالا آئي نہيں وہ۔۔۔۔؟
چائے پر کر اشرف کے ساتھ لوٹا تو سوا نو بج چکے تھے  کمرہ کھلا تھا وہ اشرف کو باہر کھڑا کر کے اندر گھس گيا، دوسرےکمرے ميں کنيزہ اسکا انتظار کررہي تھي، ديکھتے ہيں اس سے چمٹ گئي۔۔۔۔
جذبات چھلکنے لگے حيوانيت بڑھنے لگي اور جب گناہ اور جذبات ايک ہونا چاہتے تھے تو وہ يہ کہہ کر باہر گيا کہ دروازہ بند کر آئوں کھلا ہوا ہے شايد باہر اشرف کھرا انتظار کر رہا تھا، بولا اتني دير لگادي۔
ہاں يار سمجھا رہا تھا وہ مانتي ہي نہيں، کہتي ہے ميں کوئي بازاري عورت ہوں کو ہر ايک کے پاس جاتي ہوں، اب بس ايک ترکيب ہے ميں مين سوئچ دبا ديتا ہوں، تم اندر گھس جائو تمہيں پہچان نہ سکے گي، اس سے کوئي بات نہ کرنا بس چپ چاپ۔۔۔۔۔اشرف اندر گھس گيا مين سوئچ  پہلے ہي بند کرديا تھا اس کا کمرہ نہيں ساري بلڈنگ ميں اندھيرا گہرا اندھيرا چہا گيا تھا، ايک منٹ دو منٹ، دس منٹ روشني ہوئي اشرف نے کنيزہ کو ديکھا اور کنيزہ نے اشرف کو يہ تھا وہ وقت جب زمين کو پھٹ جانا چاہئيے تھا، مغرب کي دي ہوئي تعليم گندھے جذبات کي پرورش، گناہوں کي اپائيت کا نتيجہ سامنے تھا، اشرف ديوانہ ہو گيا تھا، کنيزہ نہ سمجھ سکي۔
يہ کيا ہو گيا۔۔۔۔يہ کيا ہوا۔۔۔۔؟
اشرف پاگلوں کي طرح چيجتا ہوا باہر آيا جلتے ہوئے بلب کي روشني ميں ميز پر رکھا ہوا ايک پرچہ پھڑ پھڑ ا رہا تھا۔
اشرف
ميں اس غريب لڑکي کا بھائي ہوں، جس کا نام نوري تھا جسے تمہارے فريب اور مکاري نے کھوئي ہوئي عزت حاصل کرنے کيلئے موت کي آغوش ميں سوجانے پر مجبور کر ديا تھا، ميں نے تم سے انتقام ليا ہے کنيزہ سے بدل ليا ہے اپني بہن کي موت پر کيا ہوا عہد پورا کيا ہے، شايد تمہيں معلوم نہيں ميں کنيزہ سے محبت کرتا ہو اور ايک ايسي محبت جو دل والے ہي سمجھ سکتے ہيں، ليکن بہن کي موت اور بے عزتي پر کيا ہوا عہد اس بات پر غالب آگيا۔
ميں نے اپني محبت کو قربان کرديا ہے، اپنے فرائض کيلے زندگي ميں مجھے صرف دو بڑے دکھ اٹھانے پڑے ہيں، ايک نوري کي موت اور دوسري کنيزہ کي ۔۔۔۔اتنا کچھ ہونے پر بھي کنيزہ ميري ہے اور ميرے لئے ابھي بھي ويسي ہي پاک اور معصوم ہے جيس چند گھنٹے پہلے تھي، ميري محبت اس کے جسم سے نہيں ، اس کے دل سے ہم آہنگ ہے تم اگر ميرے اور کنيزہ کے ايک ہوجانے کے رشتہ کو پسند کرو تو مجھے بتائوں، ميں تمہارا انتظار ريسٹورنٹ ميں کر رہا ہوں۔
                                                          شجاعت
پچھلا صحفہ (9) اگلا صفحہ
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu