ايک تو جواني اور اس پر بيوگي، آگ اور پاني کا کھيل تھا، بالکل،
شريا آپا آج سے نہيں پورے ايک برس سے اس آگ اور پاني کے کھيل ميں پھنسي ہوئي تھيں،
ايک سال پہلے ان کے شوہر جواني ہي ميں تنہا چھوڑ کر چل بسے تھے، کوئي چھ مہينے تو
ثريا آپ کو دولہا بھائي کے ساتھ گزارے ہوئے لمحوں نے غموں سے نڈھال کر رکھا، ليکن
آہستہ آہستہ وہ لمحے ان کے ذہن سے دور ہوتے گئے، اور جب ايک دن اپنے غموں کو بھول
گئي تو ان کي سوئي ہوئي جواني جاگ اٹھي اور کچھ اس طرح جاگي کہ آس پاس تو کيا پورے
محلے ميں دھوم ہي مچ گئي تھي۔
کچھ دنوں پہلے چوڑياں اور نئے کپڑوں کا ذکر تو خيال بھي گناہ تھا، اگر کبھي کبھار
محلے ميں کسي شادي میں گندھي ہوئي مہندي گھر ميں آجاتي تو اماں جان اسے جادو کي
پڑيا کي طرح جھپاتي پھرتيں۔
کہيں ثريا کي نظر مہندي پر نہ پر جائے۔
وہ مہندي ديکھ کر آنسو نہ بہانے لگے۔
اگر اس نے ديکھ ليا تو رو رو کي جي ہلکان کر لے گي اپنا۔
ثريا آپا بيوہ کاي ہوئيں، جيسے پورے گھر کي خوشياں گھر چھوڑ قبرستان ميں جا بيسں،
کہنےکو تو گھر گھر ہي تھا، ليکن ماتم کدہ بن کر رہا گيا تھا، کيا مجال جو دو گھڑي
ہنس بول کر گزار دے، کبھي کبھار نئي فلموں کے گانے کو جي چاہتا اور وہ ريڈيو پر
فرمائشي پروگرام سننے بيٹھيتي تو۔۔۔۔۔ گانے کے پہلے بول کے ساتھ ہي ثريا آپا
آدھمکتيں۔
ہوں تو يوں کہو اپنے ناچ رنگ سے مطلب ہے سب کو کسي کو کيا پڑي ہے، کسي کے دکھوں
کي۔۔۔۔خوب گائوں، بجائو، ميں ہوتي کون ہوں؟ اگر اس کي شامت آئي ہوتي تو کہہ ديتي۔تو
آخر کيا ہوا، ريڈيو سننے ميں۔۔۔ذرا سا دل بہل جائے گا۔
يہ لفظ کيا ہوتے نشتر ہوتے بالکل اتني سي بات تيز بن کر ثريا آپا کے دل ميں جالگتي
پہلےتو وہ دھيمے دھيمے سسکياں بھرتين اور پھر رونے کي آواز سارے گھر ميں پھيل جاتي،
اماں جان چنگھاڑتي ہوئي آتيں۔
کيا ہوا۔۔۔۔؟کس نے کيا کيا۔۔۔۔ارے ايک غم کي ماري کي جينے بھي دے گا کوئي؟
اماں جان کي يہ ہمدردي ثريا آپا کے آنسوئوں کي رواني کو اور بڑھا ديتي اور پھر ماں
بيٹياں گلے لگ لگ کر جو آنسو بہاتيں تو سارے گھر ميں آنسو کا سيلاب آجاتا سارے گھر
ميں مايوسي اور غم کے بادل چھاجاتے، ماما کيسا ہي کھانا پکاديتي کوئي کچھ نہ کہتا،
دوپہر کا کھانا تين بجے کے بعد ملتا تو کسي کي زبان سے ايک لفظ نہ نکلتا، جب تک رات
آکر گزر نہ جاتي يہ اداسي اور غمگيني گھر سے نہ تلي، صبح ہوئي تو جو چہرہ سب سے
زيادہ مسکرا رہا ہوتا وہ ثريا آپا کا ہي ہوتا۔
روز روز کي اس آفت سے گھر کے سب نوکر ڈرے ہوئے تھے، ماما کي تو جان نکلتي تھي، ان
کي شکل ديکھ کر جو وہ کہتيں اسے ماننا ہي پڑتا۔
نمک کم چيني زيادہ کوئلے اور ڈالو گھي اتنا زيادہ کم کرو، کھانا اتنا کيوں پکتا ہے،
دھوبي کو کپڑے گن کر کيوں نہيں دئيے جاتے ہيں، يہ بجلياں ہر وقت کيوں جلتي رہتي ہي،
بل ديکھا ہے کبھي ۔۔۔۔؟
ثريا آپا کي فرعونيت ديکھ کر کيھ بار اس کا جي چاہا کہ وہ بھي کسي مرے گلاے آدمي سے
شادي کر لے اور بيوہ ہوجائے، اور اس طرح ثريا آپا سے تو تين سال چھوٹي تھي اور
دوسرے وہ جو بات سوچتي تھي آساني سے پوري ہو بھي نہ سکتي تھي، قسمت کي مار ريحانہ
کے کہنے پر وہ بازار چلي گئي، ايک دوکان پر پلاسٹک کے بنے ہوئے کلپ اسے پسند آگئے،
وہ خريد لائي لاکر رکھے ثريا آپا گھر کا جائزہ ليتے ہوئيے اس تک پہنچ ، کلپ ديکھ کر
بوليں کتنے کے لئے؟ اچھے ہيں۔
سو روپے۔۔۔۔کے پسند ہيں تمہيں آپا۔۔۔؟
ہاں پسند تو ہيں ليکن ميري پسند ہي کيا؟
ثريا آپا غمگين ہونے لگيں، اس نے ہمدردي جتائي |