|

حمل
شادي کے بعد ماں بننا،
کسي عورت کا حيسن ترين خواب
ہوتا ہے، استقرار حم، تخليق کے مرحلے سے گزرنے کا پہلا قدم
ہوتا ہے، اس طرح عورت ايک نئے انسان کو دنيا ميں لانے کے عمل ميں
داخل ہوجاتي ہے، يہي وجہ ہے کہ عورت کو انساني معاشرے ميں اہم ترين
حيثيت حاصل ہے، برصغير کے معروف شاعر رابندر نات ٹيگور کے لفظوں
ميں ماں زمين پر زندہ خدا ہے۔
اس حقيقت کو يقينا کوئي نہيں جھٹلا سکتا کہ حمل، کسي عورت
کيلئے ايک نازک امتحان ہوتا ہے، ايک ايسي کڑي آزمائش ہوتي ہے، جس
سے صرف عورت کو گزرنا پڑتا ہے، اس صبر آزما سورتحال ميں عورت نہ
صرف جسماني بلکہ ذہني تبديليوں سے بھي ايک مخصوص عرصہ کيلئے
دو چار ہوجاتي ہے، حمل کے مسائل ميں سب سے زيادہ متاثر کرنے والا
معاملہ عورت کي جسماني بئيت ہے، اسکا پيٹ پھول جاتا ہے، جسم بھاري
بھرکم ہوجاتا ہے، وہ خود کو کمزور، نڈھال اور توانائي کي کمي کا
شکار ہوجاتيہے، کچھ عورتيں ان باتوں کے پيش نظر ماں بننے کے عمل سے
گريز کرتي ہيں، ليکن ايسا نہيں ہونا چاہيئے، آج کا دور شعور و آگہي
کا زمانہ ہے، سائنسي ترقي نے عورت کو ان بيشتر مسائل پر قابو
پانےکے قابل بناديا ہے، جو ماضي مين انتہائي تکليف دہ ہوا کرتے
تھے، آج کے دور ميں عورت حمل کے دوران اپني جسماني صحت ميں انتہائي
تکليف دہ ہوا کرتے تھے، آج کے دور ميں عورت حمل کے دوران اپني
جسماني صحت برقرا رکھ سکتي ہے، جس طرح ايام حمل سے پہلے اسے بس
تھوڑي سي احتياط اور غذا ميں توازن کي ضرورت ہوتي ہے۔
حمل کا عرصہ عام طور پر نوماہ کا ہوتا ہے، کچھ صورتوں ميں يہ عرصہ
تھوڑا سا زيادہ يا کم بھي ہوجاتا ہے، مناسب اقدامات سے حمل کي
تکاليف اور جسماني بدصورتي سے بچايا جاسکتا ہے، آئندہ صفحات ميں ان
باتوں کو زير بحث لايا جائے گا، سردست يہ کہنا کافي ہے کہ مناسب
توجہ اور احتياط سے يہ آزمائش ايک سنسني خيز اور بھر پور تجربے ميں
تبديل ہوجاتي ہے۔
|