پيٹ کے نچلے حصے ميں مسلسل يا وقفہ وقفہ سے اٹھنے والے درد کا مطلب
ہوتا ہے کہ رحم ميں کوئي گڑ بڑ ہے، رحم ميں کوئي بے قاعدگي يا غير
معمولي پن بعد ازاں اسقاط حمل کي صورت احيتار کر ليتے ہیں۔
حمل کا متوقع عرصہ مکمل ہونے سے پہلے اندام نہاني سے رسنے والي
شفاف رطوبت ميں خون کي آميزش اس بات کي علامت ہے کہ حمل ساقط
ہوجائے گا يا وقت سے پہلے زچگي ہوگي۔
بار بار تکليف کے ساتھ پيشاب آنے کا مطلب ہے کہ مثانے يا گردے ميں
يقيني طور پر کوئي انفيکشن ہے،۔
پائوں کي سوجن، انگليوں يا گھٹنوں کے جوڑ ميں ورم بھي ايک منفي
علامت ہے ، اس کيفيت کے خاتمہ کيلئے نمک کے استعمال ميں کمي
اور پيشاب اور ادوايت کا استعمال عام طور پر مفيد رہتا ہے۔
اگر حمل کے ابتدائي آٹھ ماہ ميں خون آنا مسلسل درد جسيے کوئي
نوکيلي چيز چبھتي ہو جاري رہے تو امکان ہوتا ہے، کہ حمل گر جائے
گا، اندام نہاني سے گلابي رنگت جيسا سيال، حمل کے اٹھايسويں ہفتے
ميں رسنے لگےتو يہ بچہ داني ميں کسي بے قاعدگي يا گڑ بڑ کا
اشارہ کرتا ہے۔
حاملہ خاتون کے جسم کا درجہ حرات کبھي زيادہ ہوجائے بخار تو بھر
پور توجہ دينا چاہئيے، حمل کے دوران بخار سارے عمل کے متاثر کرکے
غير ضروري پچيدگيوں کو جنم دے سکتا ہے۔
بار بار متلي ہو ليکن قے کے ساتھ بہت کم پاني يا بالکل ہي پاني نہ
ہوتو يہ بات تشويشناک ہوتي ہے، ڈاکٹر سے مشورہ ليں، اگر حاملہ عورت
کے معدے ميں خواراک بالکل نہ ٹہرتي ہو تو يہ ماں کے ساتھ ساتھ بچے
کيلئے بھي خطرناک ثابت ہوسکتي ہے۔
زچگي سے 24 گھنٹے پہلے عام طور پر بچے کي کوئي حرکت محسوس نہيں
ہوتي ہے، يہ پرسکون کيفيت ميں ہوتا ہے، ليکن اگر بچے کو حرکت کرتے
ہوئے 48 گھنٹے گزر جائيں تو فورا ڈاکٹر کو بتائيں تاکہ اصل صورتحال
سمجھ ميں آئے۔
عورت کے جسم کي عمومي
حفاظت۔
حمل کے دوران پيٹ پھول کر بڑا ہوجاتا ہے، جلد پھيل
جاتي ہے جلد کے نيچے متصلہ ريشے الگ الگ ہوجاتے ہيں اور جلد پر
سفيد نشان پر جاتے ہيں، اس کيفيت سے بچنے کيلئے پيٹ اور چھاتيوں پر
تيل کا مساج کيا جاتا ہے، خاص طور پر ايسا تيل جس میں وٹامن اي
شامل ہو، ان دنوں پيٹ يا چھاتيوں پر کسي قسم کي خراش نہيں آني
چاہئيے کيونکہ اس کا نشان طويل عرصہ تک موجود رہتا ہے۔
اگر آپ کو جلد پر خارش محسوس ہوتو اپنے ہاتھوں سے نرمي اور ملامت
سے کھجائيے۔
اگر آپ ہونے والے بچے کو اپنا دودھ پلانے کا ارادہ رکھتي ہيں، تو
اپني چھاتيوں کے نپل چھٹے ماہ سے تيارہ کرنا شروع کرديں، روزانہ کم
از کم دو تين بار اپنے نپل کو کچھ دير کيلئے انگلي اور انگوٹھے کي
مدد سے رول کيجئے، ہلکا سا باہر کھيجچئے نپل باہ آجائے تو ان پر
مالئمت سے زيتون کا تيل کا مساج کريں، ايک غلط فہمي دور ہوني چاہئے
بچے کو دودھ پلانے سے چھاتياں پستان بڑي نہيں ہوتيں، دودھ پلانے کے
عرصہ ميں زيادہ ڈھيلي ڈھالي بريزر استعمال نہ کيجئے، اس طرح
چھاتياں متناسب رہيں گي، البتہ حمل کے دوران ڈھيلے ڈھالے لباس
پہنے، بازار میں اس مقصد کيلئے خوبصورت ڈيزائنوں ميں لباس دستياب
ہوتے ہيں، ياد رکھيئے جسم کو پرکشش رکھنے کا طريقہ اٹھنے بيٹھنے کے
درست انداز ار اچھے لباس ميں ہے۔
حمل کے دوران ايسا لباس استعمالکيجئے جو آرام دہ ہو اور آنے والنے
دنوں ميں جسم کے پھيلائوں کو مد نظر رکھتے ہوئے تيار کيا گيا ہو،
اونچي ايڑھي کا جوتا استعمال کرنا بند کرديں، آرام دہ اور فليٹ
چپليں پہنے۔
حمل کے آجري دنوں ميں بہت سي عورتوں کي ورديدیں، دل کے والوں کي
ناقص کار کردگي کے سبسب پھول جاتي ہيں اور جلد پر نماياں ہوجاتي
ہيں، يہ کيفيت ٹانگوں کي دريدوں ميں زيادہ واضع طور پر ديھنے ميں
آتي ہے، جن خواتين ميں يہ صورتحال کام کاج کي نوعيت کي وجہ سے ہوتي
ہے انہيں زيادہ دير کھڑا رہنا پڑتا ہے۔
حاملہ عورتوں کو مشورہ ديا جاتا ہے، کہ وہ اپنا زيادہ تر کام بيٹھ
کر سر انجام ديں، جب آپ بيٹھي ہوئي ہو، تو آپ کے پائوں فرش وغيرہ
پر چپکے ہوئے محسوس نہيں ہونے چاہيئے، اپنے اپئوں کے نيچے کوئي
ايسي چيز رکھيں جس سے آپ کے پائوں کے پنجے ايڑيوں دو تين انچ رہيں۔
اگر آپ کو مسلسل ايک جگہ کھڑے ہو کر کام کرنا پڑےتو ساکت و جلد
رہنے کي بجائے ادھر ادھر متحرک رہيں، اگر وريدوں کے پھولنے کي
کيفيت پيدا ہوجائے تو بستر سے اترنے سے پہلے پلاسٹ کي جزابيں پہن
ليں، اپني ڈاکٹر کو صورتحال سے اگاہ کريں اور مناسب مشورہ ليں، اس
کيفيت ميں روزانہ ايک دفعہ دن ميں گھنٹہ بھر چت ليٹيں۔
بعض اوقات ٹانگوں ٹخنوں پائوں ہاتھوں انگليوں چہرے اور پنجوں پر
سوجن ہوجاتي ہے، صورتحال حمل کے آخري دنوں ميں پيش آتي ہے، سوجن کي
وجہ پاني کا جسم کے ريشوں کي خالي جگہوں ميں جمع ہوجانا ہے، نمک کا
زيادہ استعمال پاني کو جسم ميں روک ليتا ہے، اس لئے ايسي کيفيت ميں
نمک کا استعمال مائع کم کرديں، مائع کي صورت ميں غزائوں کا استعمال
کم سے کم کرديا جائے ليکن اس طرح قبض کي شکايت پيدا ہوجاتي ہے،
چنانچہ مناسب يہ ہي ہے کہ کہ اپنے تجربے کے مطابق نمک اور پاني کا
استعمال اپني جسماني ضرورت کے مطابق کريں، آخري مہيوں ميں جسم کا
بوجھ خون کي لمبي شريانوں پر بڑھ جاتا ہے ، چناچنہ بے ہوشي اور دل
ڈوبنے جيسي کيفيت نمودار ہوتي ہيں، اگر يہ صورتحال پيش آجائےتو چند
منٹوں کيلے چت ليٹ جائيں ان دنوں آئرن والي غذائوں کا استعمال بڑھا
دينا چاہئے۔
کچھ عورتوں کي ٹانگوں کے پٹھوں ميں سختي آجانے سے اينٹھن پيدا
ہوجاتي ہے، اس سے نيند ميں بھي خلل آجاتا ہے، ٹانگوں کے اينٹھن
والے حصوں کا مساج بھرپور انداز میں کيا جائے اور ان حصوں پر بعد
ازاں پاني گرم کي بوتل يا گرم پيڈ رکھے جائيں۔
حمل کے دنوں کے مسائل میں ايک دل جلنا اور تبخير معدہ ہے، دل جلنے
کي کيفيت دراصل سينے کے زيريں حصے ميں جلن کا احساس ہے اگرچہ اس
جلن کا تعلق دل سے نہيں ہوتا ليکن عام لوگ اسے يہي نام ديتے ہيں،
اس مسئلہ کا حل ہلکي ہلکي اور سادہ غذائيں ہيں، طويل وقفے کے بعد
زيادہ کھانے کي بجائے چھوٹے چھوٹے وقفوں کے بعد تھوڑا سا کھانا
مناسب ہے۔
حمل کے دوران جلد اور بالوں کي مناسب حفاظت خاص طور پر اہميت رکھتي
ہے، کسي خوشبودار صابن سے روزانہ نہانا بہت ضروري ہے، صبح شام اپني
جلد پر ليموں کے رس اور ہلدي کے سفوف ملي ، ملک کريم لگائيں،
روزانہ صبح شام غسل کيلئے باتھ روم ميں جانےسے پہلے ايک چمچہ دہي
چند قطرے بادام اور عرق گلاب شامل کرکے بدن پر مليں اور پھر روئي
سے صاف کرليں، اس سے آپ کي جلد نرم و نازک اور تروتازہ رہے گي۔
رات کو اپنے جسم پر سکن لوشن لگائيں، يہ لوشن تيار کرنے کيلئے
بادام، کھيرے ک اپاني، شہد عرق گلاب، اور ليموںکا عرق ايک ايک چمچہ
اچھي طرح ملا کر کسي بوتل يا مناسب برتن ميں ڈاليں ار اسے فريج ميں
يا کسي ٹھنڈي جگہ پر رکھيں، اس لوشن کو روزانہ سونے سے پہلے نظر
آنے والي جلد پر اچھي طرح مليں، يہ لوشں آپ کے رخساروں سے پائوں تک
چھائيوں اور دھبوں کو مٹادے گا، اور آپ کا رنگ نکھر جائے گا۔
کچھ خواتين حمل کے نتيجے ميں چہرے پر پڑنے والي چھائيوں اور دھوب
کو گہرے ميک اپ کے نيچے چھپانے کي کوشس کرتي ہيں، يہ غلط ہے طريقہ
کار ہے، ميک اپ ہميشہ ہلکا پھلکا کريں، اگر کسي خاتون کي جلد پر سخ
باد نکل آنے کا رجحان ہو تو عرصہ حمل ميں ان سے بچنا مشکل ہوتا
ہے۔ان کي وجہ سے پريشان ہونا چھوڑ ديجئے، بعض اوقات خواتين کي جلد
پر چھوٹے چھوٹۓ تل نمودار ہوجاتے ہيں، يا پھر کسي ايک جگہ پر ان کا
اجتماع ہوجاتا ہے، يہ بھي پريشاني کي کوئي بات نہيں، کيونکہ زچگي
کے بعد يہ خود باخود غائب ہوجاتے ہيں۔
عرصہ حمل کے دوران اس اصول پر سختي عمل کريں، جلدي سوئيں اور صبح
سويرے بيدار ہوجائيں۔