|

زيابطيس
(شوگر)۔
جسماني حالت کے پيش نظر حاملہ خواتين عام طور پر بستر تک محدود
ہوجاتي ہيں، يا پھر بہت کم جسماني نقل و حرکت کرتي ہيں، يہ صورتحال
ايسي حاملہ خواتين کو زيابطيس کي مريض بناديتي ہے، جو وراثت ميں
زيابطيس کا رجحان رکھتي ہوں، ان کے خاندان ميں لوگ ذيابطيس کے مريض
بن جاتے ہيں، بعض اوقات وراثت ميں تو يہ رجحان نہيں ہوتا لين خود
ان کے اپنے جسم کي کيميائي کيفيات، ذيابطيس کا شکار بننے ميں مدد
گار ہوتي ہيں، ايسي خواتين کے لببلے پوري طرح سے فعال نہيں رہتے،
غير متحرک جسم ميں شوگر تحليل کرنے کيلئے انھيں زيادہ انسولين پيدا
کرنا پڑتي ہے، چناچہ ان کي کارکردگي متاثر ہوتي ہے اور جسم زيابطيس
کا شکار ہوجاتا ہے۔
اگر زيابطيس کي کوئي مريضہ حاملہ ہوجائےتو پريشانے ہونے کي ضرورت
نہيں، ڈاکٹر سے رابطہ کريں، انسولين کي مدد سے شوگر آساني کے ساتھ
معمول کي سطح پر لائي جاسکتي ہے خون اور پيشاب ميں شوگر کي مقدار
حمل کے دوران چيک کراتے رہيں۔ تاکہ کسي پيچيدگي کو جنم لينے سے
پہلے دور کيا جاسکے، عام طور پر شوگر کي مريضہ کے ہاں عام خواتين
کے بچوں کي نسبت اوسط وزن سے زيادہ وزن کے بچے جنم ليتے ہيں، ان کے
ہاں اکثر اوقات زچگي کا عمل آپريشن کے نتيجے ميں ہوتا ہے، شوگر کي
مريضہ کيلئے ايک اور منفي امکان يہ ہوتا ہے کہ ان کے حمل کاميابي
سے ہم کنار نہيں ہوتے اور بچے زيادہ تر زصگي تک زندہ نہيں رہتے۔
|