|

خون کا زہريلاپن۔
پيشاب ميں پروٹين کے اضافوں کي وجہ سے بلڈ پريشر يا سوجن ہوجاتي
ہے، موٹي خواتين ميں ہائي بلڈ پريشر کا رجحان بہت زيادہ ہوتا ہے،
ايسي خواتين حاملہ ہونے کے بعد خون کے زہريلے پن کا شکار آساني
ہوجاتي ہيں، ايسي خواتين کو مرض کے بعد گھريا ہسپتال ميں بھر پور
آرام کرنا چاہئيے، اگر ايسا نہ کيا جائے تو مرض بگڑ کر
EXLAMPSIA کي شکل اختيار کرسکتا ہے، اس
ميں تشنج کے دورے پڑتے ہيں۔
حمل گرجانا۔
بعض
اوقات حمل ساقط ہوجاتا ہے، اس کے زيادہ تر اسباب ميں، پيدائشي طور
پر رحم کي غلط پوزيشن اور خون آنے کےفورا بعد مباشرت ہے، حاملہ
خاتون کا زيادہ بوجھ اٹھانا اور بار بار جسم کو جھٹکانا بھي حمل
گرنے کا سبب بنتا ہے، ايسي خواتين جو پہلے حمل گرنے کے واقعات سے
دوچار ہوچکي ہوں، انہيں دوبارہ حاملہ ہونے پر متعلقہ باتوں کا خيال
رکھنا چاہئيے، اگر استقاط حمل کے واقعات بار بار پيش آتے ہوں تو يہ
بات متعلقہ خاتون کيلئے انتہائي خطرناک ثابت ہوسکتي ہے۔
امراض قلب۔
اگر
عورت معمولي قسم کے عارضہ قلب ميں مبتلا ہو تو وہ عرصہ حمل مکمل
کرکے محفوظ طريقے سے بچے کو جنم دے سکتي ہے، علاوہ ازيں يہ بھي
ممکن ہوتا ہے کہ زچگي کے بعد مريضہ کي حالت مزيد بہتر ہوجائے، ايسي
حاملہ خاتون جسے دل کا عارضہ ہو اسے ايک دن ميں کم از کم دس گھنٹے
سونا چاہئيے، خاص طور ھر آٹھ گھنٹے رات کو اور دو گھنٹے دوپہر ميں،
دل کے ديگر مريضوں کي طرح حاملہ خواتين کي بھي اپنے وزن کے بارے
ميں خاصا محتاط رہنا چاہئيے، وزن ميں غير معمولي اضافہ ايسي خواتين
کيلئے بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، ايسي خواتين کو ہر طرح کے
انفيکشن سے بچنا چاہئيے اور خاص طور پر محتاط رہنا چاہئيے کہ وہ
خون کي کمي کا شکار نہ ہوجائيں
|