احکام
قرباني
ہر
عاقل بالغ مرد و عورت جس کے پاس مقيم بقدر نصاب چاندي يا روز
مرہ کي حاجت ضروريہ سے زائد يا اتني ہي ماليت کا اسباب ہو اس پر
واجب ہے کہ اپني طرف سے قرباني کرے۔اونٹ ، بکرا، دنبہ، گائے ، بھينس، نر يو ہا مادہ سب کي قرباني درست
ہے، گائے بھينس د برس سے کم، بکري ايک برس سے کم، کي نہ ہو، اور
دنبہ چھ مہينے کا بھي درست ہے، جبکہ خوب فربہ ہو اور سالبھر کا
معلوم ہوتا ہو اور اونٹ گائے ، بھينس ميں سات آدمي تک شريک ہوسکتے
ہيں، مگر کسي کا حصہ ساتويں سے کم نہ ہو۔
جانور بے عيب ہو، لنگڑا نہ ہو، اندھا ، کانا اور بہت لاغر اور کوئي
عضو تنائي سے زائد کتا ہوا نہ ہو، خصي يعني بدھيا کي اور جس کي سنگ
نکلے ہو قرباني درست ہے اور پوپلي جس کے دانت نہ رہے ہو اور بوچي
جس کے پيدائشئ کان نہ ہوں جائز نہيں اور اگر بکري وغيرہ کا ايک تھن
خشک ہو گي اہ يا بھينس وغيہ کے دو تھن خشک ہوگئے ہيں اس کي قرباني
بھي درست نہيں ، دسويں تاريخ عيد کي نماز کے بعد سے بارھيويں کے
غروب سے پہلے پہلے تين دن دو رات تک قرباني کا وقت رہتا ہے مگر دس
ويں افضل ہے، پھر گيارہيوں کا درجہ ہے پھر باروہيوں کا اور
رات کو ذبح کرنا مکروہ تنز يہي ہے اور اگر دس تاريخ کو کسي
وجہ سے نماز نہ ھوئي ہو مثلا بارش تھي تو زوال کے وقت شروع ہوت ا
ہے اور اگر نماز عيد چند جگہ ہوتي ہے تو ايک جگہ ہونے کے بعد
قرباني جائز ہے اور ديہات کے باشندوں کو جائز ہے کہ نماز عيد سے
پہلے ذبح کرليں، بعد اس کے نماز کيلئے جائيں۔اگر قرباني شرکت ميں
کريں تو محض اندازے سے گوشت تقسيم کرنا جائز نہيں تول کر پورا پورا
بانٹيں کسي طرف ذرا بھي کمي بيشي نہ ہو، ہاں جس حصہ ميں کلے پائے
بھي ہوں اس مین کمي چاہے جتني ہو جائز ہے، البتہ اگر مشترک ہي خرچ
کرنا ياد کسي کو ينا چاہيں تو تقسيم کي حاجت نہيں۔بہتر ہے کم از کم ايک تہائي گوشت خيرات کر دے اور ايک تہائي اعزا
احباب کو دے دے۔
قرباني کي کوئي چيز قصاب کو اجرت ميں دينا جائز نہيں۔قرباني پر جھل ڈالنا محتسب ہے اور پھر اس کي رسي جھول سب
تصدق کردينا افضل ہے۔قرباني کي کھلا تو اپنے کام ميں لانا جائز ہے، مثلا مصلي وغيرہ
بنوا لے، ليکن کھال کا بيچنا اپنے خرچ ميں لانے کيلئے درست نہيں ،
ہاں اگر قيمت خيرات کرنے کيلئے بيچے تو خير، مگر اولي يہ ہے کہ
کھال ہي کسي کو دے دے۔قرباني کے ذبح کے وقت دعا پڑھنا ايسي ضروري نہين کہ بدوں اس کے
قرباني نہ ہو۔
بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کے ذبح کرلے۔
اکثر لوگ قرباني کي کھال اما يا موذن وغيرہ کو دے ديتے ہيں يہ جائز
نہيں م، کيونکہ اس کو ان کي خدمت مسجد کا صلہ سمجھا جاتا ہے اور
کسي خدمت کے معاوضہ ميں چرم قرباني وغيرہ دينا جائز نہيں، البتہ
اگر کسي امام وغيرہ سے صاف کہہ دي اجائے کہ قرباني کي کھال بالکل
نہ ملے گي اور پھر کوئي شخص بطور ہديہ صدوہ کھال دے دے تو کچھ حرج
نہيں خواہ وہ امام مصرف زکوتہ ہو يا نہ ہو۔
کيونکہ بعينہ کھال دينے ميں مصروف زکواتہ ہونا ضرط نہيں ہے بلکہ جس
طرہ گوشت خود کھاتے ہيں اور امير غريب اور سيد وغيرہ سب کو ديتے
ہيں ہيہ کھال کا حکم ہے گوشت اور کھال ميں صرف يہي شرط ہے کہ کسي
کو بطور حق الخدمت نہ ديا جائے اور کھال کے اگر دام دينا ہوں تو
جس کو دے اس کا مصرف زکواتھہ ہونا بھي ضرط ہے، يعني صاحب نصاب اور
بني ہاشم کو دينا جائز نہيں خوب سمجھ لو۔
ايک عام رسم ہي ہوگئي ہے کہ قرباني کے بعض حصصوں کوبعضلوگوں کا حق
سمجھا جاتا ہے مثلا سري کو سقے کا اور اگر وہ چيز ان کو نہ
دي جائے تو جھگڑا ہوجاتا ہے ہي حق سمجھنا اور ايےس موقع پر ديان
بالکل ناجائز ہے جس کسي کو کچھ ديا جائے محض تبر عاد يا جائے، جيسا
کہ معلوم ہ چکا ہے۔
بعض لوگ گابھن گائے، بکري وغيرہ کي قرباني کو ناجائز سمجہتے ہين تو
يہ غلط ہے قرباني ميں کوئي فرق نہيں آتا ، ليکن اگر پہلے سے معلوم
ہوجائے تو بہتر يہي ہے کہ قرباني نہ کرے، بلکہ اس کے بدلے ميں دسري
کردي جائے، ليکن اگر دوسري کم قيمت ہو تو جو دام باقي رہيں اور
خيرات کر دئيے جائيں۔
اگر کسي ميت نے قرباني کي وصيت کي تھي تو اس قرباني کو گوشت خيرات
کر ديناواجب ہے اور اگر بغير وصيت کے کسي نے ايصال ثواب کيلئے ميت
کي طرف سے قرباني کي ہو تو اس ميں اپني قرباني کي طرح اختيار ہے۔
بعض جگہ قرباني کے جانور کي کھال ذبح سے پہلے ہي بيچ دي جاتي ہے۔
اکثر جاہل يوں سمجھتے ہيں کہ اگر خاوند غريب يا قرض دار ہو تو بيوي
کے ذمہ بھي قرباني نہيں ، يہ بالکل غلط ہے، جب بيوي صاحب نصاب ہو
جيسا کہ اکثر مقدار نصاب زيور ان کي ملکيت ہو تو اس پر مستقل
قرباني جائز ہے۔
قرباني کرنے والے کے واسطے يہ محتسب ہے کہ ذہ الحجہ کے عشرہ ميں
بال اور ناخن نہ بنوائے بلکہ قرباني کے بعد بنوائے۔ |