Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children

 


عيد الالضحي
عيد الاضحي کے فضائل و احکام
عيد اور بقر عيد کي نماز شہر اور قصبہ اوراس بڑے گائوں کو لگوں پر واجب ہے جو قصبہ کے مشابہ ہو جيسا کہ جمعہ اور جس طرح جمعہ چھوٹے گائوں ميں جائز نہيں اسي طرح عيدين کي نماز بھي جائز نہيں ہے ، اس لئے چھوٹے گائوں میں ہر گز نہ پڑھي جائے اور بقر عيد کے رو سنت يہ ہے کہ نماز عيد سے پہلے کچھ کھائيں پئيں نہيں، جو لوگ قرباني کريں ان کيلئے يہ مسنون ہے کہ نماز کے بعد بھي نہ کھايں بلکہ قرباني کے بعد اپني قرباني ميں سے کھائيں، اور نماز سے پيشتر غسل اور مسواک کرکے اپنے مجودہ کپڑوں مین سے عمدہ ترين کپڑے پہن کر اور خوشبو لگا کر اور جہاں تک ہوسکے جلدي سے عيد گاہ پہنچيں اور پيدل جاويں اور راستہ ميں با آواز بلند تکبير کہتے رہيں، تکبير وہي جو ايام تشريق کے حاشہي ميں گزري يعني اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر و للہ الحمد اور نامز کے بعد بلند آواز سے تکبير پڑھيں کہ بعض فقہا نے اس کو واجب کہا ہے اور خطبہ کے وقت اس طرح صف بستہ چپ چاپ بيٹھے رہيں اکثر لوگ خطبہ نہین سنے اور جو لوگ خطبہ نہيں سنتے سخت گنہگار ہوتے ہيں، کيونکہ اس وقت چپ رہنا واجب ہے پھر واپس ہوں تو جس راستے سے گئے تھے اس راستہ سے نہ آئيں بلکہ دوسرے راستہ سے لوٹئيں اور واپسي ميں اگر کسي چيز پر سوار ہو جائين تو مضائقہ نہيں ہے ۔
تنبہ اول بعض جگہ دستور ہے کہ جب عيد گاہ ميں مرد نماز کو جاتے ہيں تو عورتيں جمع ہو کر اپنے گھروں ميں نفل نماز پڑھتي ہيں پھر بعض جگہ تو جماعت کرتي ہيں اور بعض جگہ تنہا پڑھتي ہيں، حالانکہ دونوں طرح کراہت سے خالي نہین کيونکہ نماز عيد سے قبل نفل پڑھنا مکروہ ہے اور جماعت ہونے سے زيادہ کراہت ہو جاتي ہے کيونکہ عورتوں کي جماعت بھي مکروہ ہے، اور اہتمام سے نفل کي جماعت بھي مکروہ ہے، غرض جماعت ميں تين مکروہات جمع ہو جاتے ہيں ونيز ايک گناہ بے پر دگي کا ہوتا ہے کيونکہ يہ گمان کرتي ہين کہ سب مرد چلے گئے اس لئے بے فکر نکلتي ہيں حالانکہ بعض آدمي راستے ميں مل جاتے ہيں ااس لئے اس سے نہايت اہتمام کے ساتھ بچنا لازم ہے اور اگر کوئي نفل پڑھنا چاہے تو نماز عيد کے بعد اپنے گھر ميں تنہا ہي چار نفل چاشت کي نيت سے پڑھ لے تو ثواب ہے۔
تنبہ دوم عيدين کي نماز عيد گاہ ميں پڑھنا مسنون ہے، اس واسطے اگر امام عيد گاہ ديندار ہوتو عيد گاہ ميں جانا چاھئيے البتہ اگر بيماري ہے يا بڑھاپے کے سب مسجد ميں شريک ہو جائے تو م ضائقہ نہيں اور مسجدوں ميں عيدين کي نماز معذور  لوگوں ہي کي واسطے جاري ہوئي ہے ليکن امام عيد گاہ ايسا ہو  جس کے پيچھے نماز پڑھنا مکروہ ہو تو پھر ديندار امام کے پيچھے مسجد ميں پڑھ ليں غرض بلا وجہ مسجدوں ميں نماز عيدين نہ پڑھي جائے۔
تنبيہ سوم عيد کي نماز کے بعد تو دعا مانگنے کي ہنجائش ہے ليکن خطبہ کے بعد دعا مانگنا محض بے دليل ہے، اس واسطے کے بعد دعا نہ مانگي جائے۔
تنبيہ چہارم نماز عيدين کيلئے اذان اور اقامت نہيں ہے اور يہ جو دستور ہے کہ الصلوتح الصوتح پکاتے ہيں يہ بدعت ہے اس کو ترک کرنا چاھئيے۔
تنہ منچل عيد لفطر کي نماز ميں تاخير بہترہے اور عيد لاضحي ميں تعجيل اور معياد اس کا يہ ہے کہ شروع وقت سے اخير تک يعني اشراق سے نصف النہار تک کا حساب لگايا  جائے جتنا وقت ہوتا ہے اس کا آدھا کريں، آدھے سے پيشتر پڑھنا تعجيل ہے اور آدھے کے بعد پڑھنا تاخير اس حساب سے بقر عيد کي نماز چھوٹے دنوں ميں طلوع آفتاب کے بعد اڑھائي گھنٹہ کے اندر ہونا چاھئيے اور بڑے دنوں ميں اس سے کچھ دير بعد اور عيد الفطر کا محتسب وقت چھوٹے دنوں ميں طلوع سے اڑھائي گھنٹہ بعد شروع ہو جاتا ہے اور بڑے دنوں ميں ساڑھے تين گھنٹے بعد۔
تنبہہ ششم خطبہ صرف عربي ميں پڑھا جائے، اردو، فارسي وغيرہ کوئي زبان شامل نہ کيا جائے اور اگر ضروري  مسائل سنانا مقصود ہو ت خطبہ ختم کرکے ممبر سے اتر کر سنا دے، بلکہ مجمع کي ھئيت ھي بدل دي جائے اور اس کا بھي التزام نہ کيا جائے بلکہ کبھي سناديں کبھي نہيں۔





New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu