قرباني کي تاکيد و فضيلت
يہ تاکيد و فضيلت کا مضمون حيات
المسليمن سے کسي قدر تغذ و اختصار کے ساتھ ليا گيا ہے جو شخص پورا مضمون ديکھنا
چاھئيے وہ اصل کتاب ضرور ديکھ لے بلکہ وہ پوري کتاب حرزجان بنانے کے قابل ہے
بالخصوص ديباچہ کہ روح الارواح ہے اور تاکيد تو اسي کيلئے ہے جس پر واجب ہو ليکن جس
پر واجب نہ ہو اگر وہ بھي کردے يا کوئي شخص اپنے بچوں کي طرف بھي کر دے تو اس کو
بھي بہت ثواب ملتا ہے اور اگر کسي ميت کي طرف سےکلرے تو اس ميت کو بھي بہت
ثواب ملتا ہے اس اس کے متعلق آيتيں اور حديثيں لکھي جاتي ہيں، اور يہ حکم امت کو
بھي شامل ہے کہ کيونکہ آنحضرت صلي اللہ عليہ وسلم کيلئے خاص ہونے کي دليل کوئي نہيں
بلکہ عام ہونے کي دليل موجود ہے، چناچہ آنحضرت صلي اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمايا
ہےکہ جو شخص قرباني کي ہنجائش رکھتا ہے اور قرباني نہ کرے تو وہ ہماري عيد گاہ ميں
نہ آئے، اس حديث شريف سے کس قدر ناراضي معلوم ہوتي ہے ان سے جو کہ باوجود
واجب ہونے کہ ترک کرتے ہيں کيااس کو وہ لوگ سن کر بھي بيدار نہ ہون گے؟۔
فرمايا اللہ تعالي نے کہ ہم نے ہر امت کيلئے قرباني کرنا اس غرض سے
مقرر کيا تھا کہ وہ ان مخصوص چوپايون پر يعني گائے، اونٹ، بکري، بھيٹ سب کے نر و
مادہ، اللہ کا نام ليں جو اس نے ان کو عطا کيا ہے۔
اس آيت سے معلوم ہو کہ قرباني بڑي مہتم بالشان عبادت ہے کوجو کہ
مشروع ہے۔
بھيمتح الا النعام جو اس آيت ميں آيا ہے ارسدو ميں کوئي ايسا لفط
نہيں جو اس کا ترجمہ ہو سکے، اس لئے جن جن چاپوئيوں پر يہ لفظ بولا جاتا ہے ان سب ک
انام لکھ ديا ، اور گائے کے حکم ميں بھينس بھي ہے اور دنبہ بھيڑ کي قسم پس قرباني
بارہ چيزوں کي جائز ہے، گائے، بيل، پھينس، بھينسا، اونٹ اونٹني، بکرا، بکري،
بھيڑ ، مينڈھا، دنبہ، دنبي، ان کے سوا اور کسي جانور کي قرباني جائز نہيں ہے۔
اور قرباني کے اونت اور گائے کو ہم نے اللہ کے دين کي ياد گار
بنايا ہے کہ ان کي قرباني سے اللہ تعالي کي عظمت اور دين کي رفعت ظاہر ہوتي ہے اور
اس حکمت کے علاوہ ان جانوروں مين تمہارے اور بھي فائدے ہيں مثلا نيو فائدہ کھانا
اور کھلانا اور آخروري فائدہ ثواب۔
اگر چہ بکري، بھيڑ قرباني کے جانور ہيں اور قرباني اس لئے وہ بھي
دين کي ہادگار ہيں مگر آيت ميں خاص اونت اور گائے کا ذکر فرمانا اس لئے ہے کہ ان کي
قرباني بھير کي قرباني سے افضل ہے اور حديث شريف ميں ہے جو سب سے عمدہ قرباني سينگ
والا مينڈھا ہے سو اس ک امطلب يہ ہے کہ اپني جنس ميں مينڈہا سب سے افضل ہے يعني
بکري وغيرہ سے اور دنبہ بھي مينڈھے کے حکم ميں ہے کہ اور اگر پوري گائے يا اونت نہ
ہو بلکہ سا ک اساتواں حصہ قرباني کيلئے تو اس ميں تفصيل يہ ہے کہ اگر ساتواح حصہ
اور پوري بکري يا بھيڑ قيمت اور گوشت کي مقدار ميں برابر ہون تو جس کا گوشت عمدہ ہو
وہي افضل ہے، اور اگر قيمت اور گوشت ميں برابر نہ ہوں تو جو زيادہ ہو وہ افضل ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ گائے کي قرباني خاص درجہ رکھتي ہے اور بعض جاہل
کہتے ہيں کہ حضور نے گائے کا گوشت کھانے سے منع کيا ہے سو اس کي وجہ يہ نہيں ہے کہ
اس کاگوشت شرعا نا پسند تھا بلکہ اس کي وجہ يہ تھي کہ اہل عرب کو بوجہ خشک ملک ہونے
کے موافق نہ تھا۔
اللہ تعالي کے پاس پہنچتا ہے اور نہ ہي ان کا خون ليکن اس کے پاس
تمہارا تقوي پہنچتا ہے اسي ہ تعالي نے ان چوپائيوں کو تمہارا زير حکم کر ديا تھا
تاکہ تم اس بات پر اللہ تعالي کي برتري بيان کرو کہ اس نے تم کو يہ توفيق دي اور اے
عليہ وسلم اخلاص والوں کو خوشخبري سنا ديجئے۔
اخلاص کے معني يہ ہيں کہ خاص حق تعالي کي خوشنودي اور اس سے ثواب
حاصل کرنے کيلئے اور دنيا کي غرض شامل نہ ہو۔
حضرت عاشہ رضي اللہ تعالي عنہ سے روايت ہے کہ رسول سلي اللہ وسلم
نے ارساد فرماايا کہ قرباني کے دن ميں آدمي کا کوئي عمل اللہ تعالي کے نزديک قرباني
کرنے سے زيادہ پيارا نہيں اور قرباني کا جانور قيامت کے دن مع اپنے سينگوں اور اپنے
بالوں اور کھرون کے حاضرہوگا يعني ان سب چيزوں کے بدلے ثواب ملے گا اور قرباني کا
خون زمين پر گرنے سے پہلے اللہ تعالي کے يہاں ايک جاص درجہ ميں پہنچ جاتا ہے سو تم
لوگ اپنے جي خوش کرکے قرباني کيا کاروں، زيادہ داموں کے خرچ ہوجانے پر جي برا مت
کيا کرو۔
زين بن ارقم سے روايت ہے کہ صحابہ نے پوچھا يا رسول اللہ يہ قرباني
کيا چيز ہے؟ آپ نے فرمايا تمہارے نسبي ي اروحاني باپ ابراہيم عليہ السام کا طريقہ
ہے انہوں نے عرض کيا کيا ہم کو اس ميں کيا ملتا ہے؟ رسول اللہ نے فرمايا ہر بال ايک
نيکي ، انہوں نے عرض کيا کيا اگر اون وال جانور يعني بھيڑ دنبہ ہو، آپ نے فرمايا کہ
ہر ون کے بدلہ ميں بھي ايک نيکي۔
کتني بڑي رعحمت کي بات ہے کہ بکري وغيرہ کي قرباني کرنے سے حضرت
ابراہيم خليل اللہ کے پيرو کار شمار ہوگئے جنہوں نے اپنے اس پيارے پہلٹے بچے کو
قربان کيا تھا جو بڑھاپے ميں بڑي تمانؤں کے بعد نصيب ہوا تھا اس ستے بڑہ کر اور کيا
فضيلت ہوگي۔
حشرت علي سے رايت ہے کہ رسول اللہ نے فرمايا اے فاطمہ اٹھ اور ذبہ
کے وقت اپني قرباني کے پاس موجود رہ کيونکہ پہلا قطرہ جو قرباني کا زمين پر گرتا ہے
اس کے ساتھ ہي تيرے لئے تمام گناہوں کي مغفرت ہو جائے گيئ اور ياد رکھ کہ کہ
قيامت کے دن اس قرباني کا خون اور گوشت لايا جائے گا اور تيرے ميزان عمل ميں ستر
حصے بڑپا کر رکھ ديا جائے گا ان سب کے بدلے نيکياں دي جائيں گي، ابو سعيد نے عرض
کيا يارسول اللہ يہ ثواب مذکورہ کيا خاص آل محمد کيلئے ہے کيونکہ وہ اس کے لائق بھي
ہيں کہ کسي چيز کے ساتھ خاص کئے جائيں يا آل محمد اور سب مسلمانں کيلئے عام طور پر
ہے، آپ نے فرمايا کہ آل محمد کيلئے ايک طرہ سے خاص بھي ہے اور سب مسلمانوں
کيلئے عام طور پر بھي ہے۔
ايک طرہ سے خاص ہونے کا مطلب ويسا ہي معلوم ہوت ہے جيسا قرآن مجيد
ميں رسول اللہ کي بيويوں س کيلئے فرمايا ہے کہ نيک کام کا ثواب بھي اورون سے دونا
ہے اور گناہ کا عذاب بھي دونا ہے، سو قرآن مجيد سے آپھ کي بيويون کيلئے اور اس حديث
سے آپ کي اولاد کيلئے بھي يہ قانون ثابت ہوتا ہے اور اس کي بنا پر زيادہ بزرگي ہے۔
حين ابن علي سے وايت ہے کہ رسل اللہ نے ارشاد فرمايا کہ ج شخص اس
طرح قرباني کرے گا اس کا دل خوش ہو کر اور اپني قرباني ميں ثواب کي نيت رکھتا ہو
وہ قرباني اس شخص کيلئے دوزح سے آڑ ہو جائے گي۔
حنش سے روائيت ہے کہ ميں حصرت علي کو ديکھا کہ دو دنبے قرباني
کيلئے لائے اور فرمايا ان ميں ايک ميري طرف سے ہے اور دوسرا رسول اللہ کي طرف سے
ہے، ميں نے ان سے اس کے متعلق گفتگو کي انہوں نے فر مايا ہضور نے مجھ کو حکم ديا ہے
ميں اس ک کبھي نہ چھوڑوں گا۔
حضور اقدس صلي اللہ وسلم کا ہم پر حق ہے، اگر ہم ہر سال حضور کي
طرف سے بھي ايک حصہ ديا کريں تو کوئي بڑي بات نہيں ہے۔
ابو طلح سے رواي ہے کہ رسول اللہ نے فرمايا ايک دنبہ کي اپني طرف
سے قرباني فرامئي اور دوسرے دنبہ کے ذبح ميں فرمايا کہ يہ قرباني اس کي طرف سے ہے
جو ميري قم ميں سے مجھ پر ايمان لايا اور جس نے ميري تصديق کي موصلي و کبير اوسط
مطلب حضور کا اپني امت کوثواب ميں شامل کرنا تھا نہ يہ کہ قرباني سب کي طرف سے اس
طرح ہوگئي کہ اب کسي کے ذمہ قرباني نہيں رھي۔
غور کرنے کي بات ہے حضور نے قرباني ميں امت کوياد رکھا مگر افسوس
کي بات تو يہ ہے کہ امتي حضور کوياد نہيں کرتے، اور ايک حصہ بھي آپ کي طرف سے
نہ کيا کرتے ۔
حضرت ابو ہرير سے روايت ہے کہ رسول اللہ نے فرمايا اپني قربانيوں
کو خوب قوي کيا کروں کيونکہ وہ پل صراط پر تمہاري سوارياں ہوگي۔
علماۓ نے سوارياں ہونے کے دو مطلب بيان کئے ہيں ايک يہ کہ قر
قرباني کے جانور خود سوارياں ہو جائيں گے ا اور اگرکئي جانور قرباني کئے گئے ہہوں
يا تو سب کے بدلے ميں ايک بہت اچھي سواري مل جائے گي اور ي اايک ايک منزل؛ ميں ايک
ايک قرباني پر سوار ي کريں گے۔
دوسرا مطلب يہ ہوسکتا ہے کہ قربانيوں کي برکت سے پل صراط پر چلنا
ايسا آسان ھوجائيگا گو يا ان پر سوار ہو کر پار ہوگئے اور کنزلعمال ميں ايک حديث اس
مضمون کي يہ ہے کہ
سب سے افضل قرباني وہ ہے جو اعلي درجہ کي ہو اور خوقب موٹي ہو حم
کي عن رجل اور ايک حديث ہے۔
اللہ تعالي کے نزديک پياري قرباني وہ ہے کہ جو اعلي درجہ کي ہو اور
خوب موٹي ہو ہن عنب رجلوالضعف غير مضرفي الفضائل لا سيما بعد انجبارہ بتعد۔
تاکيد و فضيلت کے بعد مناسب ہو کچھ ضروري احکام بھي مختصر طور پر
لکھ دئيے جائيں، لہذا اصلاح انقلاب سے مختصر اور خطابات الاحکام سے کسي قدر اضافہ و
تغير کے ساتھ چند احکام لکھے جاتے ہيں۔ |