|
رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمايا کہ جب ان کي
عيد الفطر کا دن ہوتا ہے، تو اللہ تعالئ نے ان کے ساتھ فرشتوں پر
فخر کرتا ہے، پس ارشاد فرماتا ہے اے ميرے فرشتوں کيا بدلہ ہے اس
شخص کا جس نے اپنےکاموں کو پورا کيا وہ عرض کرتے ہيں ہمارے رب
العاليمن ان کا بدلہ يہ ہے کہ ان کو ثواب پورا ديا جائے اللہ تعالي
فرماتا ہے ميرے بندے اور بنديوں نے ميرے فرض کو پورا کيا جو
ان پر ہے ، پھر نکلے کہ فرياد کرتے ہوئے دعا کرتے ہيں قسم ہے اپني
عزت و جلال کي اور اپنے کرم کي اور اپنے علو شان کي اور اپنے مرتبہ
کے بلند ہونے کي ضرور ان کي دعا قبول کروں گا پس اپنےبندوں سے خطاب
فرماتا ہے لوٹ جؤ تم تحقيق ميں نے تم کو بخش ديا اور بدل ديا
تمہاري برائينوں کو نيکيوں سے رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم
ارشاد فرماتے ہيں پس وہ نماز کے بعد بخشے ہوئے لوٹتے ہيں بہيقي اور ارشاد فرمايا رسول اللہ صلي اللہ
عليہ وسلم نے جب عيد الفطر کا دن ہوت اہے تو فرشتے رستہ کے
دروازوں پر بيٹہ جاتے ہيں پس پکارتے ہيں اے مسلمانوں کے گروہ چلو
رب کريم کي طرف جو احسان کرتا ہے بھلائي کے ساتھ پھر اس پر بہت
ثواب ديتا ہے يعني خود ہي توفيق عبادت ديتا ہے پھر خود ہي ثواب
عنايت کرتاہے اور تحقيق تم ہي کو قيام ليل کا حکم دياگيا تھا، پس
تم نے قيام کيا اور تم کو روازے رکھنے کا حکم حاصل ہوا، پس تم نے
روزے رکھے اور اپنے پروردگار کي اطاعت کي پس تم انعام حاصل کرو،
پھر جب نماز پڑھ چکے ہيں تو منادي پکارتا ہے آگاہ ہو جاؤ بيشک
تمہارے رب نے تم کو بخش ديا ہے، پس تم لوٹو اپنے گھروں کي طرف
کامياب ہو کر، پس وہ يوم الجائزہ اور اس دن کا نام آسمان ميں يوم
الجائزہ انعام کا دن رکھاگيا ہے۔
|