|
اور رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمايا ہے کہ صدقہ طفر
ايک صاع گہيوں کا دو شخصوں کي طرف سے ہے چھوٹا يا بڑا، آزاد ہو يا
غلام مرد ہو يا عورت،سب کي طرف سے نصف صاع ہے بہر حال تم ميں جو
غنيہو اس کو اللہ تعالي پاک کردتيا ہے، صدقہ طفر ادا کرنے کي وجہ
سے اور تم ميں سے جو فقير ہو اور پھر بھي صدقہ طفر دے، تو اللہ
تعالي اس کو اس کے دينے سے بھي زيادہ عطا فرماتا ہے۔
اور ابن عباس رضي اللہ عنہ نے فرمايا ہے کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم
نے صدقہ فطر کو فرض کيا ہے روزے کو بے فائدہ اور فحض باتوں سے پاک
کرنے کے واسطے اور مساکين کو کھلانے کے واسطے۔
پہلي روائيت سے معلوم ہوچکا ہے کہ گہيوں نصف ساع دي جاتي ہے کشمش
بھي نسف ساع واجب ہے اگر کوئي شخص علاوہ ان چاروں چيزوں کے گندم
کشمش تمر جو کے دينا چاہے تو قيمت کا اعتبار ہے پس صاع فنگم
کي يا ياک صاع جو کي قيمت ہو اتني قيمت کے چاول وغيرہ دئيے جاويں
اور صاع دوسو تہت تولہ کا ہو اور نماز عيد سے پيشتر صدقہ فطر
کا ادا کرنا محتسب ہے اگر بعد میں ديا جائے تب بھي جائز ہے۔
اور رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم عيد اور بقر عيد کے روز عيد گاہ
مين تشريف لے جاتے ، پس اولا نماز پڑھتے پھر لوگوں کي طرف منہ کرکے
کھڑے ہو جاتے اور لوگ صف باندہے بيٹھے رہتے ہيں پس آپ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم
خطبہ پڑھتے ۔
|