بلکہ سنت يہ ہے کہ ہر شخص کے پاس جو کپڑے ہيں ان مں سے جو اچھے ہوں
وہ پہنے۔
عيد لافطر کے دن بارہ چيزيں مسنون ہيں شرع کے موافق آرائش کرنا،
غسل کرنا مسواک کرنا عمدہ کپڑے جو پاس ہون پہننا ، خوشبو لگانا صبح
سويرے اٹھنا، عيد گاہ سويرے جانا، عيد گاہ جانے سے قبل
کوئي شيريں چيز کھنا، عيد گاہ جانے سے قبل صدقہ و فطر دينا، عيد کي
نماز کيلئے عيد گاہ مين جاوے بلا عذر شہر ميں نہ پڑھے ، جس راستہ سے جاوے اس کے علاوہ دوسرے راستے سے واپس آنا، پيادہ جانا
اور راستہ میں اللہ اکبر اللہ اکبر لا اللہ الا واللہ اکبر
اللہ اکبر و للہ الحمد آہستہ پڑھتا جا
عيد الفطر کي نماز پڑھنے کا يہ طريقہ ہے کہ اول يہ نيت کرے ميں دو
رکعت واجب عيد الفطر مع چھ تکبيرو کے ادا کرتا ہوں پھر يہ نيت کرکے
تکبير تحريمہ کئے ہوئے ہاتھ باندہ لے، اور سبحانک اللھم لا الا
غيرک تک پڑھ کر تين مرتبہ اللہ اکبر کہے اور ہر مرتبہ کانوں تک
ہاتھ اٹھاوے اور پہلي دوسري تکبير کے بعد ہاتھ چھوڑ دے، مگر تيسري
تکبير کے بعد ہاتھ باندہ لے اور امام قرات شروع کردے اور مقتدي
خاموش کھڑے رہيںاور حساب دستور رکوع س وغيرہ کريں پھر
جب دوسري رکعت ميں امام قرات کر چکے تو تين تکبيريں مثل سابق کے
کہے ليکن يہاں تيسري تکبير کے بعد ہاتھ نہ باندھے بلکہ چھوڑ دے اور
پھر ہاتھ اٹھائے بغير چوتھي تکبير کہہ کر رکوع ميں جاوے۔
|