Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children

 


محرم الحرام
محرم کي فضيليت اور
منکرات مروجہ کي مذمت ارشاد فرمايا رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے  کہ  سب سے افضل  رمخان کے بعد اللہ تعالي کا مہينہ محرم  ہے يعني اس کي دسويں تاريء کو روزہ رکھنا رمضان کے سوا اور سب مہنوں کے روزہ سے زيادہ ثواب رکھتا ہے، مسلم اور جب آنحضرت رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم مدينہ ميں تشريف لائے تو يہود  کو عاشورہ کا روزہ رکھتے ہوئے پايا، اس لئے آپ نے ان سے فرمايا يہ کيا دن ہے جس ميں تم روزہ رکھتے ہو تو انہوں نے کہا، يہ بڑا دن ہے اس ميں اللہ تعالي نے موسي اور ان کي قوم کو نجات عطا فرمائي اور فرعون اور اس کي قوم غرق ہوئي، پس موسي عليہ سلام نے اس دن کا روزہ بطور شکر کے رکھا تو ہم بھي اس کا روزہ رکھتے ہين، پس ارشاد فرمايا رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم تو ہم زيادہ حق دار  اور قريب ہيں موسي کے تم سے، پھر  رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے اس کا روزہ رکھا اور دوسروں کو اس روزہ کا حکم ديا، متفق عليہ کہ عاشورا کا روزہ کفارہ ہوجاتا ہے، اس سال کا يعني اس سال کے چھوٹے گناہوں کا جوس اس سے پيشتر گزرچکا ہے، مسلم اور حديث شريف ميں ہے کہ جب رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے روہ رکھا اور اس کے روزہ کا حکم ديا انہوں نے يعني صحابہ نے عرض کيا کہ يہ ايسا دن ہے جس کو ہيود اور انصاري معظم سمجھتے ہيں، تو آپ نے ارشاد فرمايا کہ اگر ميں آئندہ سال تک زند رہا تو 9 تاريخ کو بھي ضرور روزہ رکھوں گا،مسلم اور ارشاد فرمايا رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے روزہ رکھو تم عاشورہ کا اور مخالفت کرو اس ميں يہود کي اور وھ اس طرح کہ روزہ رکھو اس سے ايک دن پہلے کا يا ايک دن بعد کا غرض تنہا عاشورہ کا روزہ نہ رکھ، اس سے ايک پہلے يا بعد کا ملا لينا چاھئيے جمع الفائد عن احمد و البزارابلين و اليہ ذہب فہا فاکر ہو انفراد عاشورا بالصوم اور حديث شريف ميں ہے کہ عاشورہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پيشتر بطور فرضيت رکھا جاتا تھا۔
پس جب رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہوا تو جس نے چاہا عاشوارا کا روزہ رکھا اور جس نے چاہا نہ رکھا، جمع الفوائد عن الستہت الالنسائي اور ارشاد فرمايا رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے جس شخص نے فراخي کي اپنے اہل و عيال پر خرچ ميں عاشورہ کے دن، فراخي کرے گا، اللہ تعالي اس پر رزق ميں تمام سال رزينو بيہقي و في المرتھ قال العراقي لہ طرق بعضہا صيح و بعضہا علي شرط مسلم، پس يہ دو باتيں تو کرنے کي ہيں، ايک روزہ رکھنا کہ وہ محتسب ہے دوسرے مصارف ميں کچھ فراخي کرنا اپني حثيت کي موافق اور يہ مباح ہے اس کے علاوھ اور سبکي جاتي ہيں خرافت ہيں، لوگ اس دن ميلہ لگاتے ہيں، اور حضرات اھلبيت رضوان اللہ عليہم اجمعين کے مصائب کا ضکر کرتے ہي> اور ان کا ماتم کرتے ہيں اور مرثيہ پڑھتے ہيں اور روتے چلاتے ہيں اور بعض لوگ تو تعزيہ اور علم وغيرہ بھي نکالتے ہيں، اور ان کے ساتھ شرک و کفر کا معاملہ کرتے ہيں يہ سب باتيں واجب الترک ہيں، شرعيت ميں اس ماتم غيرہ کي کوئي اصل نہيں ہے بلکہ ان سب امور کي سخت ممانعت آئي ہے۔        







New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu