|
قسم دو کے منکرات
کھچرا
يا اور کچہ کھانا پکانا احباب يا مساکين کو دنيا اور اس کو ثواب
حضرت امام حيسن رضي اللہ تعالي عنہہ کو بخش دينا، اس کي اصل وہہ
حديث ہے کہ جو شخص اس دن ميں اپنے عيال پر وسعت دے، اللہ تعالي سال
بھر اس پر وسعت فرماتے ہيں، وسعت کي يہ بھي ايک صورت ہو سکتي ہے کہ
بہت سے کھانے پکائے جاويں خواہ جدا جدا يا ملا کر کھچڑا ميں کئي
جنس مءتلف ہوتي ہے اس لئے وھ اس وسعت ميں داخل ہوسکتا تھا،چناچہ
درمختار ميں ہے ولاباس بالمعتا خلطا يو جہ جب اہل وعيال کو ديا کچھ
غريب غربا کو بھي دے ديا، حضرت امامين کو ثواب بخش ديا، مگر چونکہ
لوگوں نے اس ميں طرح طرح کي رسوم کي پابندي کرلي ہے، گويا اس کو
ايک تہوار قرار دے ديا ہے، اس لئے رسم کے طور پر کرنے سے ممانعت کي
جائے گي، بلا پابندي اگر اس روز کچھ فراخي خرچ ميں کھانے پينے ميں
کردے تو مضائقہ نہيں۔
شربت پلانا، يہ بي اپني ذات ميں مباح تھا، کيونکہ جب پاني پلانے
ميں ثواب ہےتو شربت پلانے ميں کيا حرج تھا، مگر وھ رسم کي پابندي
اس مين ہے اور اس کے علاوہ اس ميں اہل رفن کے ساتھ تشبہ بھي ہے، اس
لئے يہ قابل ترک ہے، تيسرے اس ميں ايک مضمر خرابي يہ ہے کہ شربت اس
مناسبت سےتجويز کيا گيا ہے، کہ حضرت شہدا کر بلا پياسے شہيد
ہوئے تھے اور شربت اس مناسبت سے تجويز کيا گيا ہے اس سے
معلوم ہوتا ہے کہ ان کے عقيدہ ميں شربت پہنچات ہے جس کا بطل اور
خلاف قران مجيد ہونا فصل دوم ميں مذکور ہوچکا ہے اور اگر پلانے کا
ثواب پہنچاتا ہے تو ثواب سب يکساں ہے، کيا صرف شربت دينے کو ثواب
ميں تسکين عطش کا خاصہ ہے پھر بھي اس سے لازم آتا ہے ان کے زعم ميں
اب تک شہدا کر بلا نعوذباللہ پياسے ہيں، يہ کس قدر بے ادبي ہے، ان
مفاسد کي وجہ سے اس سے بھي احتياط لازم ہے۔
شہادت کا قصہ بيان کرنا، يہ بھي في نفسہ چند روايات کا ذکر دينا
ہے، اگر صيح ہوں تو روايات کا بيان کردينا في ذاتہ جائز تھا مگر اس
مين يہ خرابياں عارض ہوگئيں، مقصود اس بيان سے ھيجان اور جلب غم
اور گر يہ وزاري کا ہوتا ہے اس ميں چريح مقابلہ شرعيت مطہرہ ہے اور
ظاہر ہے کہ مزاحمت شريعت سخت معصيت اور حرام ہے، اس لئے گر يہ
وزاري کو بھي وصدا ياد کرکے لانا جائز نہيں،البتہ غلبہ غم سے اگر
آنسو آجائيں تو اس ميں گناہ نہيں،لوگوں کو اس لئے بلاياجاتا ہے اور
ايسے امور کيلئے تداعي و اہتمام خود ممنوع ہے، اس ميں مشابہت اہل؛
رفض کے ساتھ بھي ہے اس ليئ ايسي مجلس کا منعقد کرنا اور اس ميں
شرکت کرنا سب ممنوع ہے، چناچہ مطالب المونين ميں صاف منع لکھ ہے،
اور قواعد شريعہ بھي اس کے مشاہد ہيں کہ اور يہ تو اس مجسل کا ذکر
ہے جس ميں کوئي مضمون خلاف نہ ہو اور نہ توہين ہو يا نوححرام ہو،
جيسا کہ غالب اس وقت مين ايسا ہي ہےتو اس کا حرام ہونا ظاہر اور اس
سے بد تر خود شعيہ کي ماجلس ميں جاکر شريک ہونا بيان سننےکيلئے يا
يک پيالہ فريني اور دو نان کيلئے۔
اصلاح الرسوم کا مضمن ختم ہو اب زوال السنتہ سے بعض سے رسوم قبيح
کي مذمت نقل کي جاتي ہے۔
بعض لوگ اس بچے کو منحوس سمجھتے ہيں جو محرم ميں پيدا ہو يہ بھي
غلط عقيدہ ہے۔
بعض لون ان ايام ميں شادي کو برا سمجھتے ہيں يہ عقيدہ بھي باطل ہے۔
بعض جگہ ان ايام ميں گٹکہ دھينا مصالح تقسيم کرتے ہيں يہ بھي واجب
الترک ہے۔
بعض شہروں میں اس تاريخ کو روٹياں تقسيم کرتے ہيں اور ان کي تقسيم
کا يہ طريقہ نکالا ہے کہ چھتوں کے اوپر کھڑے ہو کر پھينکتے ہيں جس
سے کچھ تو لوگوں کے ہاتھ ميں آتي ہے اور اکثرزمين پر گر کر پيروں
ميں روندي جاتي ہيں، جس سے رزق کي بے ادبي اور گناہ ہناظاہر ہے،
حديث شريف ميں اکرام رزق کا حکم اور اس کي بے احترامي و بال سلب
رزق آيا ہے، خدا سے ڈرو اور رزق برباد مت کرو اور بے ادبي کے علاوہ
بدعت اور ريا وغيرہ کا گناہ بھي اس رسم ميں موجود ہے۔
|