|
اس حديث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور سرکار
مدينہ نے فرض نمازوں کے علاوہ جن نوافل کي پابندي فرمائي وہ ہمارے
لئيے سنت مطہر ہيں اور حضور کي سنت مطہرہ پر عمل کرنا ہي دين و
دنيا ميں بھلائي اور بہتري کا باعث ہے، حضرت انس فرماتے ہيں کہ
حضور نبي کريم نے ارشاد فرمايا۔
جس نے ميري سنت سے محبت کي تو بلا شبہ اس نے مجھ سے کي وہ
جنت ميں ميرے ساتھ رہے گا۔
مسلم شريف
حضرت عائشہ صديقہ رضي اللہ تعالي سے مروي ہے کہ حضور نبي کريم نے
فرمايا۔
فجر کي دو رکعتيں دنيا دمافيہا سے بہتر ہيں۔
ايک اور حديث پاک ميں ہے کہ عائشہ صديقہ فرماتي ہيں کہ حضور ان کي
فجر کي دو رکعت جتني محافظت فرماتے کسي اور نفل نماز کي نہيں کرتے۔
بخاري۔مسلم۔ابودائود۔
حضرت عبداللہ بن عمر سے مروي ہے کہ جس شخص نے عرض کي کہ يا رسول
اللہ کوئي ايسا عمل ارشاد فرمائيں کہ اللہ تعالي مجھے اس سے نفع دے
دي۔آپ نے فرمايا فجر کي نماز ميں دو رکعتوں کو لازم کرلو بڑي فضيلت
ہے۔
طبراني۔
حضرت ابو ہريرہ سے روايت ہے کہ حضور نبي کريم نے ارشاد فرمايا کہ۔
فجر کي سنتيں نہ چھوڑو اگرچہ تم پر دشمنوں کے گھرڑے آپڑيں۔
ابودائود شريف۔
حضرت عبداللہ بن سئاب سے وايت ہے کہ حضور نبي کريم سورج ڈھلنےکے
بعد نماز ظہر سے پہلے چار رکعتيں پڑھتے اور فرماتے يہ ايسي ساعت ہے
کہ اس ميں آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہيں لہذا ميں محبوب رکھتا کہ
اس ميں ميرا کوئي عمل صالح بلند کيا جائے۔
احمد وترمذي۔
|