|
يہ نفل نماز مغرب کي نماز کے فرض اور
سنت پڑھنے کے بعد پڑھي جاتي ہيں، نماز اوابين کي زيادہ سے زيادہ
بيس اور کم سے کم چھ رکعت نفل ہيں، يہ نوافل پڑھنا باعث برکت اور
موجب رحمت ہيں، احاديث مباکہ ميں نماز اوابين پڑھنے کي فضيلت و
ثواب اس طرح سے بيان کيا گيا ہے۔
محم دبن عمار بن يسر رضي اللہ تعالي عنہ فرماتے ہيں کہ ميں نے حضرت
عمار بن ياسر کو ديکھا کہ وہ مغرب کے بعد چھ رکعت پڑھتے تھے اور
انہوں نے فرمايا کہ ميں نے حضور کو ديکھا ہے کہ آپ نے فرمايا۔
جس نے مغرب کي نماز کے بعد چھ رکعت پڑھي اس کے گناہ بخش دئيے گئے،
اگر چہ وہ سمندر کے جھاگوں کے برابر ہو۔
طبراني۔
حضرت عائشہ سے مروي ہے کہ حضور نے ارشاد فرمايا۔
جو شخص مغرب کي بعد بيس رکعت نفل نماز پڑھے تو اللہ تعالي اس کيلئے
جنت ميں گھر بناديتا ہے۔
ترمذي شريف
حضرت ابو ہريرہ سے مروي ہے کہ حضور نے ارشاد فرمايا۔
جو شخص مغرب کي نماز کے بعد چھ رکعت نماز پڑھ لے اور ان کے درميان
کوئي بري بات زبان سے نہ نکالے تو اس کو بارہ سال کي عبادت کا ثواب
ملتا ہے۔
ترمذي شريف۔ |