|
تہجد کي نماز کي فضليت اور حصوصي ذکر
قرآن پاک اور احاديث مبارکہ ميں بھي آيا ہے، عشا کي نماز پڑھنے کے
بعد سو کر اٹھيں اور نفل پڑھيں تويہ تہجد کے بفل کہلاتے ہيں، ان
کيلے عشا کے سونا شرط ہے، تہجد کي کم از کم دو اور زيادہ سے زيادہ
آٹھ يا بارہ رکعتيں ہيں، اس نفل نماز کي ادائيگي کيلئے بہترين وقت
رات کا پچھلا پہر ہوتاہے۔
اور وہ لوگ جو اپنے رب کيلئے رات کو سجدہ کرتےہوئے اور قيام کرتے
ہوئے گزارتے ہيں۔
سورتہ افرقان ٦٤۔
اور رات کے کچھ حصے ميں تہجد پڑھا کيجئے کيونکہ يہ آپ کيلئے زيادہ
فائدہ مند ہے اور قريب ہے کہ آپ کا پرودگار آپکو مقام محمود پر
پہنچا دے۔
بھلا جو شخص رات کے اوقات ميں سجدہ و قيام کي حالت ميں عبادت کرتا
ہے، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے پروردگار کي رحمت کي اميد رکھتا ہے۔
الزمر٩۔
تہجد کي نماز کے بارے ميں احاديث مبارکہ کا مطالعہ کرنے سے معلوم
ہوتا ہے کہ اس نماز کي فضيلت بہت زيادہ ہے، اور اس کا پڑھنا باعث
ثواب اور موجب رحمت ہے۔
حضرت ام سلمہ رضي اللہ تعالي عنہ فرماتي ہيں کہ ايک رات حضور نبي
کريم سو کر اٹھے اور ارشاد فرمايا۔
پاک ہے اللہ تعالي کي ذات، يہ رات کس قدر فتنوں سے بھري ہوئي ہے جن
سے بچنے کي فکر کرنا چاہئيے اور يہ رات اپنے اندر کتنے خزانے رکھتي
ہے يعني رحمت کے خزانے جن کو سميٹنا چاہئيے، ان پردہ ميں رہنے
واليوں کو کون جگائے، بہت سے لوگ ہيں جن کا عيب اس دنيا سے چھپا
ہوا ہے، آخرت ميں ان کا پردہ اٹھ جائے گا۔
بخاري شريف۔
اس حديث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے، کہ حضور نبي کريم اپني ازدواجي
مطہرات کو تہجد کي نماز پڑھنے کيلئے اٹھنے پر ابھارتے تھے۔
ايک حديث پاک ميں اس طرح سے آتا ہے، کہ حضرت مسروق حمتہ اللہ تعالي
عليہ تابعي فرماتے ہيں کہ ميں نے حضرت عائشہ صديقہ سے پوچھا کہ
حضور کو کس طرح کا عمل زيادہ پسند تھا؟ انہوں نے جواب ديا کہ وہ
کام جس کو پابندي سے کيا جائے آپ صلي اللہ عليہ وسلم کو زيادہ پسند
تھا، ميں نے پوچھا حضور رات ميں تہجد کيلئے کس وقت اٹھتے ہيں ؟
حضرت عائشہ صديقہ رضي اللہ تعالي عنہا نےجواب ديا کہ آپ اس وقت
اٹھتے جس وقت مرغ آواز ديتا ہے، يعني آخري شب ميں۔
بخاري و مسلم۔
حضرت عبداللہ بن عمر و بن العاص رضي اللہ تعالي عنہ فرماتے ہيں کہ
حضور نبي کريم نے مجھ سے فرمايا کہ۔
اے عبداللہ تم فلاں کي طرح نہ ہوجانا جو تہجد کيلئے اٹھتا تھا، پھر
اس نے اٹھنا چھوڑ ديا۔
بخاري و مسلم۔
حضرت علي رضي اللہ تعالي عنہ فرماتے ہيں کہ حضور نبي کريم عليہ
الصلوتھ والسلام ايک رات ميں تہجد کے وقت ہمارے گھر تشريف لائے اور
مجھ سے اور فاطمہ سے فرمايا کہ تم لوگ تہجد کي نماز نہيں پڑھتے ۔
بخاري و مسلم۔
حضرت عيد بن ابو قيس رضي اللہ تعالي عنہ بيان فرماتے ہيں کہ حضرت
عائشہ صديقہ رضي اللہ تعالي عنہا نے فرمايا کہ ۔
قيام ليل يعني نماز تہجد نہ چھوڑ اس لئے کے حضور نبي کريم
عليہ صلواتھ والسلام اس کو نہيں چھوڑا کرتے تھے، جب آپ بيمارے ہوتے
يا کچھ کمزوري محسوس کرتے تو بيٹھ کر نماز پڑھتے۔
ابودائود۔ |