|
اگر کوئي مشکل پيش آئے کوئي بيمار ہو
يا کوئي بھي جائز حاجت ہو تو چاہئے کہ نماز حاجت پڑھے، حضرت عثمان
بن حنيف سے مروي ہے کہ يہ نماز حضور نے ايک نابينا صحابي کو تعليم
فرمائي تھي جب انہوں نے يہ نماز پڑھي تو پڑھتے ہي انکي
بينائي آگئي۔
ترمذي۔طبراني۔ابن ماجہ۔
حضرت علي رضي اللہ تعالي عنہ سے مروي ہے آپ فرماتے ہيں کہ ميں ايک
درد ميں مبتلا ہوا تو حضور کي خدمت ميں حاضر ہوا، آپ نے مجھے اپني
جگہ پر کھڑا کيا اور خود نماز پڑھنے لہے اور مجھ پر اپنے کپڑے کا
ايک کنارہ ڈال ديا، اس کے بعد فرمايا، اے ابو طالب کے بيٹے تو نے
مرض سے شفا پائي، اب تجھےکوئي خوف نہيں، ميں نے جو کچھ اللہ سے
مانگا اسي جيسا تمہارے لئيے بھي مانگا اور جو کچھ ميں نے اللہ سے
مانگا وہ اس نے مجھے دے ديا ہے، مگر بے شک مجھ سے کہہ ديا گيا ہے
کہ تيرے بعد کوئي نبي نا آئے گا، حضرت علي فرماتے ہيں اس کے بعد
گويا مجھے وہ مرض ہي نہيں رہا۔
طبراني۔
حضرت انس بن مالک رضي اللہ تعالي عنہ فرماتے ہيں کہ حضور نبي کريم
عليہ الصلوتھ والسلام کے صحابہ کرام ميں سے ايک صہابي جن کي کنيت
ابو معلو تھي اور وہ اپنے اور دوسروں کے مال کي تجارت کيا کرتے
تھے، وہ حج بھي کرتے تھے اور پرہيزگار تھے، چنانچہ يہ ايک مرتبہ
نکلے ان کو ايک چور ہتھياروں سے ليس ملا اس چور نے کہا اپنا سامان
يہيں ڈال دے ميں تجھے قتل کرنے والا ہو، انہوں نے کہا کہ مال يہ ہے
جو چاہے سو کر، اس نے کہا ميں توتمہار خون ہي کروں گا، انہوں نے
کہا کہ پھر تو مجھے اتني مہلت دے کہ ميں نماز پڑھ لو، چور نے کہا
جتني نماز چاہے پڑھ لے، چنانچہ انہوں نے وضو کيا پھر نماز پڑھي اور
اسکے بعديہ دعا مانگي۔
اے بہت زيادہ دوست رکھنے والے اے عرش بزرگ کے مالک، اے ہر اس چيز
کو کر گزرنے والے جس کا ارادہ کرتا ہے تجھ سے ميں تيري ايسي عزت کا
واسطہ دے کر سوال کرتا ہو، جس کا قصد نہيں کيا جاسکتا اور تيرے
ايسے ملک کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہو، جس کا مقابلہ نہيں کيا
جاسکتا اور تيرے ايسے نور کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہو جس نے عرش
کے گوشے گوشے کو بھر رکھا ہے، اس بات کا سوال کرتا ہوں اس چور کي
شرارت سے تو ميرے لئے کافي ہوجا، اے مدد کرنے والے، ميري فرياد رسي
کر۔
يہ کلمات تين مرتبہ کہے اسي اثنا ميں انہوں نے ديکھا کہ ايک شہسوار
اپنےہاتھ ميں نيزہ لئے ہوئے ہے جس کو چور کے سر کي طرف دونوں کانوں
کے درميان مارنےکيلئے اٹھائے ہوئے ہے، چنانچہ اس نے چور کو ہ چھوٹا
نيزہ مارا اور اس کو قتل کرديا، اس کے بعد وہ سوار اس تاجر کي طرف
متوجہ ہو تو تاجر نے کہا تو کون ہے؟ بے شک اللہ تعالي نے تيرے
ذريعئے ميري امداد کي ہے۔ |