ماہ رجب کے
فضائل اور احکام
بعد حمد و
صلوتہ ناظرين کي خدمت ميں التماس ہے کہ ماہ رجب ايک مبارک مہينہ
ہے، حديث شريف ميں آيا ہے کہ رجب کا مہينہ آتا تو آنحضرت دعا
مانگتے کہ اے اللہ برکت دے ہمارے لئے رجب ميں اور شعبان ميں اور
پہنچا ہم کو رمضان تک بيہقي اور اس ماہ مبارک ميں سرور کائنات کو
حق تعالي نے معراج کا عظيم الشان رطبہ عطا فرمايا جو آنحضرت صلي
اللہ عليہ وسلم کے سوا کسي پيغمبر کو نہيں ملا، يعني اس انساني جسم
سميت آپ مکہ معظمہ سے بيت المقدس اور پھر وہاں سے ساتوں آسمانوں کو
طے کرکے ايسي بارگاہ قرب تک پہنچے کہ جہاں بشر تو بشر کسي فرشتہ کي
بھي رسائي نہ ہوسکي، حتي کہ تمام ملائکہ کے سردار جبريل امين نے
بھي سدرتھ المنتہي پر پہنچ کر آگے بڑھنے سے معذوري کا اعتراف کيا
چناچہ شيخ سعدي فرماتے ہيں۔
بدو گفت سالا ربيت الحرام
کالے حامل وحي برتر خرام
بگفتا مجالم نماند
مجالم نماند
اگر يکسر موئے برتر پرم
فروغي تجلي بسوزد پرم
اور بعض کم عقل لوگ جو کہتے ہيں کہ جسد عنصري کا آسمان پر جانا
محال ہے، وہ ايک بے ہودہ بکواس ہے، افسوس ہے کہ وہ لوگ محال کے
معني تو جانتے نہيں ويسے ہي اٹکل پچو جس چيز کو چاہا محال کہہ ديتے
ہيں، اکثر يہ لوگ مستبعد کو محال کہہ ديا کرتے ہيں،جس کو ان کي کم
سمجھي اور ان کے لچر شبہات اور بے بنياد دعوئوں کي ترديد ديکھنے کا
شوق ہو وہ حضرت حکيم الامت مولانا تھانوي دامت برکاتم کارسالہ
انتباہات مفيد ضرور ديکھ لے جو اس مبحث ميں نہايت جامع ہے اور اگر
زيادہ تفصيل درکار ہو تو اس کي شرح حل الانباہات ديکھيں جس ميں
جناب حکيم مولوي محمد مصطفے صاحب بجنوري مقيم مکان 9 محملہ کرم علي
ميرٹھ شہر نے نہايت وضاحت کے ساتھ تمام شبہات کا قلع قمع کرديا ہے،
يہاں معراج شريف کے متعلق صرف ايک شعر لکھا جاتا ہے جس ميں اس
استبعاد کو بالکل دفع کرديا جو عروج جسد کے متعلق نادانوں کو ہوگيا
ہے، وہ شعر يہ ہے۔
تن او کہ صافي تراز جان ماست
اگر آمدو شد بيکدم رواست |
|
<<<پچھلا صفحہ |
1 |
اگلا صفحہ>>> |