Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children

 


سليقہ و تہذيب

  ہے دوسري مخلوقات اس سے محروم ہيں۔ اس امتيازي بخشش و انعام پر خدا کا شکر ادا کيجئے اور اس امتيازي اعنام سے سر فراز ہو کر کبھي خدا کي ناشکري اور نا فرماني کا عمل نہ کيجئے۔ لباس خدا کي ايک زبردست نشاني ہے۔ لباس پہنيں تو اس احساس کو تازہ کيجئے اور جذبات کا شکر کا اظہار اس دعا کے الفاظ ميں کيجئے جو نبي صلي اللہ عليہ وسلم نے مومنوں کو سکھائي ہے۔
بہترين لباس تقوي کا لباس ہے۔ تقوي کے لباس سے باطني پاکيزگي بھي مراد ہے اور ظاہري پرہيزگاري کا لباس بھي۔ يعني ايسا لباس پہنيئے جو شريعت کي نظر ميں پرہيز گاروں کا لباس ہو۔ جس سے کبر و غرور کا اظہار نہ ہو، جو نہ عورتوں کيلئے مردوں سے مشابہت کا ذريعہ ہو اور نہ مردوں کيلئے عورتوں سے مشابہت کا۔ايسا لباس پہنئيے جس کو ديکھ کر محسوس کيا جا سکے کہ لباس پہننے والا کوئي خدا ترس اور بھلا انسان ہے اور عورتيں لباس ميں ان حدود کا لحاظ کريں جو شريعت نے ان کيلئے مقرر کي ہيں اور مردان حدود کا لحاظ کريں جو شريعت نے ان کيلئے مقرر کي ہيں۔
نيا لباس پہنيں تو کپڑے کا نام ليکر خوشي کا اظہار کيجئے کہ خدا نے اپنے فضل و کرم سے يہ کپڑا عنايت فرمايا اور شکر کے جذبات سے سرشار ہو کر نيا لباس پہننے کي وہ دعا پڑھئيے جو نبي صلي اللہ عليہ وسلم پڑھا کرتے تھے۔
حضرت ابو سعيد خدري فرماتے ہيں کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم جب کوئي نيا کپڑا ، عمامہ، کرتا يا چادر پہنتے تو اس کا نام ليکر فرماے ۔۔ خدايا تيرا شکر ہے تو نے مجھے يہ لباس پہنايا۔ ميں تجھ سے اس کے خير کا خواہاں ہوں اور میں اپنے آپ کو تيري پناہ ميں ديتا ہوں، اس لباس کي برائي سے اور اس کے مقد کے اس برے پہلو سے جس کيلئے يہ بنايا گيا ہے۔
دعاکا مطلب يہ ہے کہ خدايا تو مجھے توفيق دے کہ ميں تيرا بخشا ہوا لباس انہي مقاصد کيلئے استعمال کروں جو تيرے نزديک پاکيزہ مقاصد ہيں۔مجھے توفيق دے کہ ميں اس سے اپني ستر پوشي کر سکوں اور بے شرمي ، بے حيائي کي باتوں سے اپنے ظاہر و باطن کو محفوظ رکھ سکوں اور شريعت کے حدو د ميں رہتے ہوئے ميں اس کے ذريعہ اپنے جسم کي حفاظت کر سکوں اور اس کو زينت و جمال کا ذريعہ بنا سکوں۔ کپڑے پہن کر نہ تو دوسروں پر اپني بڑائي جتائوں ، نہ غرور اور تکبر کروں اور نہ تيري اس نعمت کو استعمال کرنے ميں شريعت کي ان حدود کو توڑوں جو تو نے اپنے بندوں اور بنديوں کيلئے مقرر فرمائي ہيں۔
حضرت عمر رضي اللہ تعالي عنہ کا بيان ہے کہ نبي صلي اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمايا۔۔ جو شخص نئے کپڑے پہنے اگر وہ گنجائش رکھتا ہو تو اپنے پرانے کپڑے کسي غريب کو خيرات ميں دے دے اور نئے کپڑے پہنتے وقت يہ دعا پڑھے۔
ساري تعريف و حمد اس خدا کيلئے ہے جس نے مجھے يہ کپڑے پہنائے جس سے میں اپني ستر پوشي کارتا ہوں اور جو اس زندگي ميں ميرے حسن و جمال کا بھي ذريعہ ہے۔
جو شخص بھي نيا لباس پہنتے وقت يہ دعا پڑھےگا اللہ تعالي اس کو زندگي ميں بھي اور موت کے بعد بھي اس کو اپني حفاظت اور نگراني ميں رکھے گا۔
کپڑے پہنتے وقت سيدھي  جانب کا خيال رکھيں،قميض کرتہ شيرواني اور کوٹ وغيرہ پہنيں تو پہلے سيدھے پير ميں پائنچہ ڈاليں نبي اکرم جب قميض پہنتے تھے تو پہلے سيدھي آستين ميں ڈالتے اور پھر الٹا ہاتھ الٹي  آستين ميں ڈالتے، اسي طرح جب آپ جوتا پہنتے تو پہلے سيدھا پائوں سيدھے جوتے ميں ڈالتے پھر الٹا پائوں الٹے جوتے ميں ڈالتے اور جوتا اتارتے وقت پہلے الٹا پائوں جوتے ميں سے نکالتے پھر  سيدھا پائو نکالتے۔
کپڑے  پہننے سے پہلے ضرور جھاڑ ليجئے،ہو سکتا ہے اس ميں کوئي موذي جانور ہو اور خدانخواستہ کوئي ايذا پہنچائے، نبي کريم صلي اللہ عليہ وسلم  ايک بار جنگل ميں اپنے موزے پہن رہے تھے، پہلا موزہ پہننے کے بعد جب نبي کريم صلي اللہ عليہ وسلم  نے دوسرا موزہ پہننے کاارادہ فرمايا تو ايک کوا جھپٹا اور وہ موذا اٹھاکر اڑا لے گيا، اوپر جاکر اسے چھوڑ ديا، موزہ جب اونچائي سے نيچے گرا تو گرنے کي جوٹ سے اس ميں سے ايک سانپ دو جا پڑا، يہ ديکھ کر آپ نبي کريم صلي اللہ عليہ وسلم  نے شکر ادا کيا اور ارشاد فرمايا ہر مسلمان کيلئے ضروري ہے کہ جب موزہ پہننے کا ارادہ کرے تو اس کو جھاڑ ليا کرے۔
لباس سفيد پہنئے، سفيد لباس مردوں کيلئے پسنديدہ ہے، نبي کريم صلي اللہ عليہ وسلم  کا ارشاد ہے کہ سفيد کپڑے پہنا کرو، يہ بہترين لباس ہے، سفيد کپڑا ہي زندگي ميں پہننا چاھئيے، اور سفيد کپڑے ميں مردوں کو دفن کرنا چاہئيے۔
ايک اور موقع پر آپ نبي کريم صلي اللہ عليہ وسلم  سفيد کپڑاپہنا کروں سفيد کپڑا زيادہ صاف ستھرا ہوتا ہے، اور اسي ميں اپنے مردوں کو کفنيانا کرو۔
زيادہ صاف ستھرا رہنے سے مراد يہ ہے کہ اگر اس پر ذرا سا داغ دھبہ بھي لگے تو فورا محسوس ہوجائے گا،  اور آدمي فورا دھو کر صاف کرلے گا اور اگر کوئي رنگين کپڑا ہوگا تو اس پر داغ دھبہ جلد نظر نہ آسکے گا اور جلد دھونے کي طرف متوجہ نہ ہوسکے، گا، صيح بخاري ميں ہے کہ نبي کريم صلي اللہ عليہ وسلم  سفيد لباس پہنا کرتے تھے، يعني آپ نے خود بھي سفيد لباس پسند کيا اور امت کے مردوں کو بھي اسکي ترغيب دي۔

 اگلا صفحہ>>>

2

<<< پچھلا صفحہ 









New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu