|
آياجس کے سر اورداڑھي کے بال بکھرے ہوئے
تھے، نبي صلي اللہ عليہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کي طرف اشارہ کيا
جس کا مطلب يہ تھا کہ جاکر پانے سر کے بال اور داڑھي کے بال کو
سنواروں۔
چناچہ وہ شخص
گيا اور بالوں کو بنا سنوار کر آيا تو آپ نے ارشاد فرمايا کيا يہ
زينت و آرائش اس سے بہتر نہيں ہے کہ آدمي کے بال الجھے ہوئے
ہوں؟ ايسا معلوم ہوتا ہے کہ گويا وہ شيطان ہے۔
حضرت ابو ہريرہ فرماتے ہيں کہ نبي صلي اللہ عليہ وسلم نے ارشاد
فرمايا کہ ايک جوتا پہن کر کوئي نہ چلے يا دونوں پہن کر چلے يا
دونوں اتار کر چلے۔
اور اسي حديث کي روشني ميں علماء دين نے ايک آستين اور موزہ پہننے
کي ممانعت فرمائي ہے۔
سرخ اور شوخ رنگ زرق برق پوشاک اور نمائشي سياہ اور گيروا کپڑے
پہننے سے بھي پرہيز کيجئے، سرخ اور شوخ رنگ اور برزق برق پوشاک
عورتوں ہي کيلئے مناسب ہے اور ان کو بھي حدود کا خيال رکھنا
چاھئيے۔
نمائش لمبے چوڑے جبے يا سياہ اور گير دار جوڑے پہن کر
دوسروں کے مقابل ميں اپني برتري دکھانا اور اپنا امتياز جتانا تو
يہ سرا سر کبر و غرور کي علامت ہے، اسي طرہ ايسے عجيب و غريب اور
مضحکہ خيز کپڑے بھي نہ پہنئيے جس کےپہننے سے آپ خوامخواہ عجوبہ بن
جائيں اور لوگ آپ کو ہنسي اور دل لگي کا موضوع بناليں۔
پائجامہ اور لنگي وغيرہ کو ٹخنوں سے اونچا رکھئيے،
جو لوگ غرور و تکبر ميں اپنا پائجامہ وغيرہ لٹکا ديتے ہيں، نبي
کريم صلي اللہ عليہ وسلم کي نظر ميں وہ ناکام اور نامراد لوگ
ہيں، اور سخت عذاب کے مستحق ہيں۔
نبي کريم صلي اللہ عليہ وسلم
کا ارشاد ہے تين قسم کے لوگ ايسے ہيں کہ خدا تعالي قيامت کے دن نہ
تو ان سے بات کرے گا نہ ان کي طرف نظر فرمائے گااور نہ ہي ان کو
پاک و صاف کرکے جنت ميں داخل کرے گا بلکہ انکو انتہائي درد ناک
عذاب دے گا، حضرت ابو ذر غفاري نے پوچھا کہ نبي کريم صلي اللہ عليہ
وسلم يہ ناکام و نامراد لوگ کون ہيں؟
ارشاد فرمايا
ايک وہ جو غرور اور تکبر ميں اپنا تہبند ٹخنوں سے نيچے لٹکاتا ہے۔
دوسرا وہ شخص ہے جو احسان جتاتا ہے۔
اور تيسرا وہ شخص ہے ہے جو جھوٹي قسموں کے سہارے اپني تجارت کو
چمکانا چاہتا ہے۔
حضرت عبيد بن خالد اپنا ايک واقعہ بيان فرماتے ہيں ميں ايک بار
مدينے منورھ مين جارہا تھا کہ ميں نے اپنے پيچھے سے يہ کہتا سنا
اپنا تمہبند اوپر اٹھا لو کہ اس سے آدمي ظاہري نجاست سے بھي محفوظ
رہتا ہے، اور باطني نجاست سے بھي ميں نے گردن پھير کر جو
ديکھا تو نبي کريم صلي اللہ عليہ وسلم تھے۔
ميں نے عرض کيا نبي کريم صلي اللہ عليہ وسلم يہ تو ايک معمولي سي
چادر ہے، بھلا اس ميں کيا تکبر اور غرورہوسکتا ہے، نبي کريم صلي
اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمايا کيا تمہارے لئے ميري اتباع
ضروري نہيں ہے، ميں نے نبي کريم صلي اللہ عليہ وسلم کے الفاظ
سنے تو فورا ميري نگاہ آپ کے تممد پر پڑي ميں ديکھا آپ کا تمد نصف
پنڈلي تک اونچا ہے۔
نبي کريم صلي اللہ عليہ وسلم کا ايہ ارشاد کہ ٹخنوں سے انوچا
پائجامہ اور لنگي وغيرہ رکھنے سے آدمي ہر طرح کي ظاہري اور
باطني نجاستوں سے محفوظ ہوجاتا ہے، بڑا ہي معني خيز ہے، اس کا مطلب
يہ ہے کہ جب کپڑا نيچے لٹکے گا تو راستے کي گندگي سے ميلا اور خراب
ہوگا۔ پاک و صاف نہ رہ سکے گا اور يہ بات ذوق طہارت ونظافت پر
نہايت گراں ہے، پھر ايسا کرنا کبر و غرور کي وجہ سے ہوتا ہے اور
کبر و غرور باطني گندگي ہے اور اگر يہ مصلحتيں نہ بھي ہوں تو مومن
کيلئے تو يہ فرمان ہي سب کچھ ہے کہ نبي صلي اللہ عليہ وسلم
کي زندگي ميں تمہارے لئے بہترين نمونہ ہے۔
اور ابوا دائود کي حديث ميں تو آپ نے اس کي بڑي لرہ خيز بيان
فرمائي ہے آپ نبي صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا مومن کا تہمد آدھي
پنڈلي ہونا چاہئے، اور اسکے نيچے ٹخنوں تک ہونے ميں بھي کوئي
مضائقہ نہيں۔
ليکن ٹخنوں سے نيچے تمہد کا جتنا حصہ لٹکے گا وہ آگ ميں جلے گا اور جو شخص
غرور اور گھمنڈ ميں اپنے کپڑے کو ٹخنے سے نيچے لٹکائے گا قيامت کے
دن خدا اس کي طرف نظر اٹھا کر بھي نہ ديکھے گا۔
ريشمي کپڑا نہ پہنئيے يہ عورتوں کا لباس اور نبي صلي اللہ عليہ
وسلم نے مردوں کو عورتوں کا سا لباس پہنے اور ان کي سي شکل و صورت
بناے سے سختي کے ساتھ منع فرمايا ہے۔
ايک بار نبي صلي اللہ عليہ وسلم نے حضرت علي سے فرمايا۔
اس ريشمي کپڑے کو پھاڑ کر اور اس کے دوپٹے بناکر ان فاطمائوں ميں
تقسيم کردو، کہ خواتين کيلئے رشمي کپڑا پہننا پسنديدہ ہے، اسي لئے
آپ نے حکم ديا کہ خواتين کے دوپٹے بنادو ورنہ کپڑا تو دوسرے کاموں
بھي آسکتا ہے۔
عورتيں ايسےباريک کپڑے نہ پہنيں جس ميں سے بدن جھلکے اور نہ ايسا
چست لباس پہنيں جس ميں سے بدن کي ساخت اور زيادہ پر کشش ہوکر
نماياں ہوا وہ کپڑے پہن کر بھي ننگي نظر آئيں ، نبي صلي اللہ عليہ
وسلم نے ايسي آبرو باختہ عورتوں کوعبرتناک انجام کي خبر دي ہے۔
وہ عورتيں بھي جہنمي ہيں جو کپڑے پہن کر بھي ننگي رہتي
ہيں، دوسروں کو رجھاتي ہيں اور خود کو دسروں پر ريجھتي ہيں، ان کے
سرناز سے بختي اونٹوں کے کوہانوں کي طرح ٹيڑھے ہيں يہ عورتيں نہ
جنت ميں جائيں گي اور نہ جنت کي خوشبو پائيں گي، درآنحاليکہ جنت کي
خوشبو بہت دور سے آتي ہے۔
ايک بار حضرت اسما باريک کپڑۓ پہنے ہوئے نبي صلي اللہ عليہ وسلم کي
خدمت ميں حاضر ہوئيں وہ سامنے آئيں تو آپ نے فورا منہ پھير ليا
فرمايا۔
اسما جب عورت جوان ہوجائے تو اس کيلئے جائز نہيں کہ منہ اور ہاتھ
کے علاوہ اس کے جسم کا کوئي حصہ نظر آئے۔
|