نفلي روزے۔
ذي الحجہ کے مہينے کي يکم تاريخ سے نو تاريخ تک روزے رکھنے
کي برکت بہت زيادہ ہے، ان ايام ميں سب سے زيادہ فضيلت ساتويں،
آٹھویں او نويں ذي الحجہ کو روزے رکھنے کي ہے، حضرت عائشہ صديقہ سے
مروي ہے کہ ايک جوان جو احاديث رسول سنا کرتا تھا جب ذي الحجہ کا
چاند نظر آيا تو اس نے روزہ رکھ ليا، جب حضور کريم کو يہ خبر دي
گئي تو آپ نے اسکو بلايا اور پوچھا، تجھے کس نے اس بات پر آمادہ
کيا تو نے روہ رکھ ليا؟
اس نے عرض کيا يا رسول اللہ ميرے ماں باپ آپ پر قربان، يہ خج و
قرباني کے دن ہيں، شايد کہ اللہ مجھے بھي ان کي دعائوں ميں شامل
فرمادے، آپ نے فرمايا تجھے ہر دن کے روزے کا اجر سو غلام آذاد
کرانے کے برابر، سوانٹوں کي قربانيوں اور اللہ کي راہ ميں دئيے گئے
سو گھوڑوں کے اجر کے برابر ہے، جب آٹھويں ذي الحجہ کا دن ہوگا تو
تجھے اس دن کے روزہ کا ثواب ہزار غلام آزاد کرانے، ہزار اونٹ قربان
کرنے، اور اللہ کي راہ ميں سواري کيلئے ہزار گھوڑے دينے کے برابر
حاصل ہوگا، جب نويں دن روزہ ہوگا، تو تجھے اس دن کے روزہ کا ثواب
دو ہزار غلام آزاد کرانے دو ہزار اونٹ کي قرباني اور اللہ کي راہ
ميں سوارئ کيلئے دو ہزار گھوڑوں کے اجر کے برابر ہوگا۔ |
|
<<<پچھلا صفحہ |
2 |
اگلا صفحہ>>> |