|
|
| نوشيرواں اور نمک |
نوشيروں عادل کے ملازم ايک روز شکار گاہ ميں اپنے آقا کے لئے کباب بھوننے لگےتو
نک موجود نہ تھا، اب اس سے اندازہ کيجئے کہ جس بادشاہ کےنوکر نمک تک ساتھ نہ لے
کر چليں اس کي بادشاہي کيسے چلتي ہوگ، خير کسي نوکر کو گائوں بھيجا گيا نمک
لائے، نوشيرواں نے ديکھا تو فورا جاتے ہوئے نوکر کو آواز دي، خبر دار نمک قيمت
دے کر لانا، ورنہ بدرسمي سے گائوں برباد ہوجائے گا، حاضرين ميں سے کسي نے عرض
کي جہاں پناہ ذرا سے نمک سے کيا بدرسم ہوسکتي ہے؟
نوشيرواں بہار نے فرمايا ياد رکھو دنيا ميں ظلم کي بنياد پہلے تھوڑ تھي ليکن جو
شخص آتا گيا اس پر بڑھاتا گيا، اپني بات کي تائيد ميں نوشيرواں نے شیج السعدي
کا ايک فاسري قطعہ بھي پڑھا، چونکہ آج کل فارسي ہمار اسکولوں ميں نہيں پڑھائي
جاتي لہذا تعجمہ پيش کيا جاتا ہے
اگر عريت کے باغ بادشاہ ايک سيب مفت ليتا ہے تو اس کے غلام درخت کو جڑ سے اکھاڑ
پھيکتے ہيں، اگر بادشاہ پانچ انڈے بھي مفت کسي کے کھالے تو لشکروالے مفت ہزاروں
مرغياں بھون کر کھا جاتے ہيں، اگ بادشاہ ايک لائنسس بھي اپنئ کسي عزيز کو ديتا
ہے تو مصاجينب سارا ملک اس کے نام پر بيچ کھاتے ہيں۔ |
|
 |