بابر شاہ سمر قند سے ہندوستان آيا تھا، تاکہ يہاں خاندان مغليہ کي بنياد ڈال سکے،
يہ کام تو وہ بحسن و خوبي اپنے وطن ميں بھي کرسکتا تھا، البتہ پاني پت کہ پہلي
لڑائي ميں اس کي موجودگي ضروري تھي، يہ نہ ہوتا تو وہ لڑائي ايک طرفہ ہوتي، ايک طرف
ابراہيم لودھي ہوتا دوسري طرف کوئي بھي نہ ھوتا، لوگ اس لڑائي کا حال پڑھ پڑھ کر
ہنسا کرتے۔
يہ بادشاہ تزک لکھتا تھا، ٹوٹے پھوٹے شعر بھي کہتا تھا، پيشنگوئياں بھي کرتا تھا،
کہ عالم دوبارہ نيست اور دو آدميوں کو بغل ميں داب کر دوڑ بھي لگايا کرتا تھا، ظاہر
ہے اتني مصروفيتوں ميں امور مملکت کيلئے کتنا وقت نکل سکتا تھا، شراب بھي
پيتا تھا، ياد رہے، اس زمانے کے لوگوں کو مذہبي احکام کو ايسا پاس نہ تھا، جيسا
ہميں ہے، کہ محرم کے عشرہ کے دوران ميں شراب کي دوکانيں بند رہتي ہيں، کسي کو پيني
ہو تو گھر ميں بيٹھ کر پئيے، کابل کو بہت کرتا تھا، وہيں دفن ھوا، اس زمانے
ميں کابل شہر اتنا گندہ نہيں ھوتا تھا جتنا آکل ہے۔سوالات:
1۔ بابر نے خاندان مغليہ کي بنياد کيوں رکھي، خاندان تغلق يا خاندان موريا کي کيوں
نہيں؟
2۔ اگر پابي پت کي پہلي لڑائي ميں بابر کے علاوہ ابراہيم لودھي بھي شريک نہ ہوتا تو
اس کا کيا نتيجہ ہوتا؟ |