|
|
| رامائن |
رامائن رامچندر جي کي کہاني ہے، يہ راجہ وسرتھ کے پرنس آف ويلز تھے،ليکن ان کي
سوتلي ماں کيکي اپنے بيٹےبھرت کو راجا بنانا چاھتي تھي اس کے بہکانے پر راجا وسرتھ
نےرامچندر جي کوچودہ برس کے لئے گھر سے نکال ديا، ان کي راني سيتا کو بھي ان
کے بھائي لچھمن بھي ساتھ ھو لئيے بن باس کے لئے نکلتے وقت رامچندر جي کے پاس کچہ نہ
تھا، بس ايک کھڑاوں تھي، وہ بھي بھرت نے رکھوائي کہ آپ کي نشاني ہمارے پاس رھني
چاہئيے، اس کھٹراؤں کو بھرت تخت کے پاس بلکہ اوپر رکھتا تھا تاکہ رامچندر جي کا
کوئي آدمي چرا کے نہ لے جائے۔
جنگل ميں رھنے کي وجہ سے ان کو گزارے ميں چنداں تکليف نہ ھوتي تھي رام جي تو آخر
رام جي جي تھے، زيادہ کام ان کا لکشمن يعني برادر خود کيا کرتے تھے۔
يہ لوگ گن گن کر دن گزار رہےتھے، کہ کب بارہ برس پورے ہواور کب يہ واپس جاکر راج
پاٹ سنبھاليں اور رعايا کي بے لوث خدمت کريں، ايک روز جب کہ رام اور لکشمن دونوں
شکار کوگئے ھوئے تھے لنکا کا راجا آيا اور سيتا جي کو اٹھا کر لے گيا، اس پر
رامچندر جي اور رادن ميں لڑائي ھوئي، گھمسان کا رن پڑا جيسا کہ دسہرے نے تہووار ميں
پڑتا آپ نے ديکھا ھوگا۔
ھنومان جي او ران کےبندروں نے رامچندر جي کا ساتھ ديا اور وہ رادن اور اس کے
راکشسوں کو مار کر جيت گئے اور پرانے خيال کے ہندو اسي لئے بندروں کي اتني عزت کرتے
ہيں، ان کو انسانوں پر ترجيح ديتے ہيں۔ |
|
 |