|
|
| ايک سبق گرامر کا |
لفظوں
کے الٹ پھر کے علم کو گرامر کہتے ہيں، لفظوں کا مجموعہ جملہ کہلاتا ہے، يہ
مجموعہ زيادہ بڑا اور لمبا ہوجئاے تو اسے مير جملہ کہتے ہيں۔
اب چونکہ جملے بازي اور فقرے بازي لوگ اچھي نظر سے نہيں ديکھتے اس لئے گرامر کي
طرف لوگوں کي توجہ کم ہوگئي ہے۔
شاعري کي گرامر کو عروض کہتے ہيں۔
پرانے لوگ عروض کے بغير شاعري کرتے تھے،، آجکل شاعرکے سامنے عروض ک انام
ليجئے تو پوچھتا ہے وہ کيا چيز ہے، ہم نے ايک شاعر کے سامنے زحافت کا نام
ليا۔۔۔۔بولے خرافات؟مجھےپسند نہيں، بس غزل سنئيے اور جائيے۔
عروض ميں بہريں ہوتي ہيں جن ميں بعض بہت گہي ہوتي ہيں، نو مشق ان ميں اکثر ڈوب
جاتے ہيں اسي لئے احتياط پسند لوگ اور عروض کے پاس نہيں جاتے، عمر بھر لکھتے
رہتے ہيں۔ |
|
 |