|
|
| لفظ اور صينغے |
پرانے زمانے
ميں تذکير و تانيث کے قاعدے مقرر تھے، قاعدہ ياد ہوتو
لباس اور بالوں وغيرہ سے پہچان ہوجاتي ہے، اب محاطب سے پوچھنا پڑتا ہے، کہ تو
مذکر ہے يا مونث اور بتا تيري رضا کيا ہے؟اس کے بعد اس سے صيح صيغے ميں گفتگو
کرتے ہيں يا ايران ہوتو اس کے ساتھ صيغہ کرتے ہيں۔
بہت سے واحد ايک جگہ اکھٹے ہوں تو جمع کے صيغے ميں آجاتے ہيں، جمع کے صيغے ميں
تھوڑي احتياط ضروري ہے خصوصا جن دنوں شہرميں دفعہ ١٤٤ لگي ہوتي ہے، ان دنوں
جمع نہيں ہونا چاہئيے، واحد رہنا ہي اچھا ہے۔
|
|
 |