|
|
| تيتر |
|
يہ جانور خالص بہت کم ملتاہے۔عام طور پر جو جانور
ملتاہے وہ آدھا تيتر آدھا بٹير ہوتا ہے۔تيتر بڑا ہشيار پرندہ ہے۔ايک بار ايک مولوي
صاحب ايک کنجڑا اور ايک پہلوان کہيں جا رہے تھے۔يہ اس قسم کي ان مل بے جوڑ حکايات
ہي ميں ممکن ہے۔ خير ايک جگہ تيتر بولا ۔مولوي صاحب نے کہا ديکھو کتنا اچھا جانور
ہے کھتا ہے سبحان تيري قدرت ۔کنجڑے نے کہا جي نہيں کہہ رہا ہے لہسن، ميتھي ،ادرک،
پہلوان نے ڈنڈا پھلا کر کہا بادشاہو۔ايہ گل نيئيں ۔يہ کہہ رہا ہے کھا گھي کر کسرت
۔اس پر بحث ہوئي بحث سے تکرار ہوئي۔ تکرار سے پ؟ٹائي ہوئي۔ايک دوسرے کي۔تيتر کا کچھ
نہيں بگڑا۔معري ايک شاعر پرانے مزمانے ہيں تھا ا۔ايک شخص نے
اسے بھونا ہوا تيتر بھيجا۔اس نے ديکھ کر فلسفہ بگھارنا شروع کر ديا کہ ھے جرم ضعيفي
کي سزا مرگ مفاجات ہم ہوتے تو فورا جٹ کر جاتے بلکہ کہتے کہ ايک پليٹ اور لائو
۔معري ويسے بھي گوشت نہ کھاتا تھا ۔شايد اس زمانے ميں بھي بارہ روپے سير ملتا ہوگا۔گوشت نہ کھانے والا ہر شاعر معري نہيں ہوتا۔ بعض
مہنگا ہونے کي وجہ سے نہيں کھاتے۔ |
|
 |