|
|
| الو |
|
زباں پہ بار خدايا يہ کس کا نام آيا ۔ الو ہامرے
معاشرے ميں بہت مقبول ہے ۔ آپ آئے دن سنتے ہيں کہ فلاں نے فلاں کو الو بنايا ۔ يا
فلاں شخص الو بن گيا۔ کبھي يہ نہھ سنيں گے کہ کسي نے کسي کو کبوتر بنايا يا طوطا
بنايا ہو۔الو کو لوگ زاہد و مرتاض خيال کرتے ہيں اس لئے کھ
درخت کي ٹہني پر يا کسي کھوہ ميں آنکھيں بند کئے بيٹھا رہتا ہے ۔ کوئي چھوٹاموٹا
جانور قريب آئے تو منہ کھول کر اسے ہڑپ کر ليتا ہے ۔انکھيں ايسي ہي بند رہتي
ہيں۔ہمارے ہاں بھي کوئي شخص دنيا کے مسائل سے آنکھ بند کئے بيٹھا رہے اور اپنے خورد
نوش سے غافل نہ ہو تو بڑي عزت پاتا ہے۔نيک گنا جاتا ہے۔ہمارے يہاں تو الو بيوقوف کے معنوں ميں آتا
ہے۔جبکہ مغربي ادب ميں يہ حکمت و دانش کي مثال ہے۔ہم اس باب ميں اپني رائے محفوظ
رکھتے ہيں ۔اتنا جانتے ہيں کہ سمجھدار اور دانش مند اور دانش ور لوگ اکثر بھوکے
مرتے ديکھے گئے ہيں۔کوئي الو کبھي بھوکا نہيں مرتا۔ |
|
 |