بچپن ميں گرميوں کي تعطيلات کا سال بھر انتظار رہتا، اسکول تين مہينے کيلئے بند
ہوتا تو والدين کے پاس جانے کا موقع ملتا۔
والد صاحب وسط ہند کے علاقے ميں تعينات تھے چناچہ پنجاب سے کئي سو ميل کا سفر
طے کرکے ميں والدين کے پاس پہنچتا، سي پي کا وہ علاقہ نہايت خوشنما تھا، جگہ
جگہ شور مچاتي ہوئي ندياں پھل دار درخت، طرح طرح ے پھولوں والے پودے اور چاروں
طرف يرہالي ہي ہريالي۔
رنگ برنگے پرندوں قسم قسم کے جانور اور جھينگروں کے شور سے جنگل ہر وقت ہونجتے
رہتے ان گہرے جنگلوں ميں نہايت اونچے اونچے درخت تھے، ان کے نيچے چھوٹے درخٹ
پھر نيچے جھاڑياں اور ان سب پر گھني بيليں چڑھي ہوئيں، اس طرح کہ وہاں سے گزرنا
محال تھا۔
رم جھم رم جھم بارش ہوتي تو کئي روزنہ تمھتي، ہوا کا ہر جہونکا اپنے ساتھ ايک
نئي خوشبو لاتا اور رات کو اتنے چمکتے کہ لالٹين کي ضرورت نہ پڑتي، ليکن جہاں
اتني خوبصورتي تھي وہاں خطرہ بھي تھا ہري بھري پھولدار جھاڑيوں ميں زہريلے کيڑے
مکوڑے تھے اونچي قدم آدم گھاس ميں سانپ، بچھو، کن کھجورے اور درختوں پر بڑي بڑي
زہريلي۔ |