بچپن ميں گرميوں کي تعطيلات کا سال بھر انتظار رہتا، اسکول تين گھنے جنگل ميں جتنے سائے متحرک ہوتے ہيں ان ميں شيروں چيتوں اور ہاتھيوں کي
پر چھائيں بھي ہوتيں ، اکثر سننے ميں آتا صبح جو ڈاک کا ہر کرہ ندي کے پل پر
ملا ھا، دوپھر کو اسے تيندو نے مار ڈالا، يا يہ م،کھيا جي نمبر دار کسي معاملے
کي تشخيص کيلئے جارہے تھے کہ درندے نے انہيں زخمي کر ديا، سانپ تو تقريبا ہر
جگہ تھے، گھاس ميں پاني، صاف ستھرے ميدان، پگڈنڈي پر مکان ميں، يہاں تک بعض
اوقات جب ہوا تيز چلتي تو کسي درخٹ سے سانپ گرتا۔
ميں چھوٹا تھا اس لئيے ميرا خاص خيال رکھاجاتا، باہر نکلتا تو گھٹنے تک اونچے
ربڑ کے جوتے پہنا کر کسي کے ہمراہ بھيجتے، مغرب کے بعد گھر سے جانے کي ممانعت
تھي، زيادہ وقت نھني بہن کے ہمراہ گھر کے باغيچے ميں گزرتا، ہم دن بھر
تتلياں پکڑتے گلدستے بناتے، پھل توڑتے، نہ اسکول کي حاضري تھي، نہ استادوں کا
ڈر۔
چھٹياں تيزي سے گزرجاتيں پھر والدين سے سال بھر کيلئے جدا ہو کر طويل سفر طے
کرنا پڑتا۔
محکمہ انہار ميں ہونے کي وجہ سے والد صاحب کو قصبوں شہروں سے دور جنگلوں کيمپوں
ميں رہنا پڑتا، ليکن انہيں ايسي زندگي پسند تھي ورزش، فوٹوگرافي اور خطرناک
جانوروں کا شکار، ان کا محبوب مشغلہ تھا اور کھلي ھوئي جگيہں بہت اچھي لگتي
تھي، اپني بڑي ساري موٹر سائکل پر وہ گھوڑے کي سواري کو ترجيح ديتے تھے، محکمہ
جنگلات کے افسروں اور اپنے انجينر ساتھيوں کے ساتھ وہ اکثر درندوں کے
شکار کو جاتے اور کبھي کبھي شيرون چيتوں کي کھاليں دوستوں کو بہيجي جاتيں۔
بعض اوقات جب وہ رات کو دويا تين بجے واپس آتے تو ہم منتظر ہوتے کہ ضرور يہ کسي
خطرناک واقعے کا ذکر کريں گے، ليکن وہ خاموش رہتے، ہم حيوانوں کے متعلق پوچھتے
تو ہميشہ ايک فقرے سے ٹال ديتے جب تک انسان جانوروں کو تنگ نہ کے وہ خود پہل
نہيں کرتے، اور يہ کہ ہتھيار صرف آدم خور درندوں پر استعمال کرنے چاھئيں۔ |