Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children
Special Occassion Collection at IndusMart.com


  اردوادب | مزاحيہ مضامين | شفيق الرحمن
کام چور بھوت
ميرا دوست اور ميں تقريبا رات کے نو بجے گاؤں کے قريب پہينچے ، ميرے پاس ہاتھ ميں ايک لاٹھي تھي، دوسرے ميں لالٹین، ميرے دوست نے بھي لاٹھي تھام رکھي تھي، اس کے دوسرے ہاتھ ميں مونگ پھليوں اور اخروٹوں والے گڑ کي پڑيا تھي۔
ہمارے ذمے دو کام تھے، پڑوس گاؤں کے نمبردار کو گڑ کا تحفہ پيش کرکے انھيں بتانا کہ ان کا بھيجا ھوا مالي بيمار ھے، اگر وھ دوسرا مالي بھيجيں تواسے ساتھ لے آئيں۔ ھم اپنے گاؤں سے دوپہر کو چلے تھے، ليکن راستے ميں ملہ لگا ھوا تھا، شام تک وھاں رھے سورجغروب ھونے تک اچانک ياد آيا کہ ابھي چار پانچ ميل کا سفر باقي ھے ، چناچہ ايک واقف کار کي دکان سے لال ٹين کرائے پر لے کر روانہ ھوئے۔
گاؤں سے سو ڈيڑھ گزادھري ھميں کتوں کے لشکر نے گھير ليا، ھمارا خيال تھا، کہ لال ٹین مددے گي، اور اس کي روشني ميںکتون کي اچھي طرح خبر لے سکيں گے، ليکن روشني ميں کتے خوب نشانہ باندھ کر حملہ کرتے ھيں، يکا يک ميرے دوست کا لٹھ لالٹين پر پڑا، اندھيرا ھوتے ھي افراتفري مچ گئي، اتفاق سے ميں نے ايک کتے کي دم پر پاؤں رکھ ديا، اس نے نعرہ لگايا دوسرے کتوں نے اس کا ساتھ ديا۔
ھم دونوں ايسے سرپٹ بھاگے کہ منٹوں ميں گاؤں پہنچ گئے۔ ديکھا کہ چوپال ميں لوگ بيٹھے حقہ پي رھے ھيں۔ وھ ديکھو شکاري صاحب کوئي کہانے سنا رھے ھيں، ميرا دوست بولا ۔۔۔۔۔شکاري صاحب بڑے دلچسپ انسان تھے، ان کے قصے ايسے ھوتے تھے،کن ان پر کچھ يقين آتا کچھ پرنہ آتا، بڑے نڑے تو مسکراتے رھتے ليکن لڑکوں کو جو ان سے نوک جھونک بھي کرتے، ان کي باتيں پسند تھيں، خصوصا جس طرح وھ اپني کہاني کے اختتام کو يکدم وڑتے۔
معلوم ھو کہ کسي بھوت کا قصہ شروع کرانے والے ھيں، حاضرين ميں زيادھ تعداد نوجوانوں کي تھي،جو انہيں لگاتا تار ٹوک رھے تھے، اس لئے موضوع بھي بار بار بدل جاتا ھم نے ان سے طرح طرح کے قصے سنے ليکن بھوتوں کا ذکر آج پہلي مرتبہ ھورہا تھا۔
کافي دير ھو چکي تھي، ميں نے اپنےدوست کو کہا کہ ھميں پيدل چل کر واپس اپنے گاؤں بھي پہنچنا ھے اس لئے فورا نمبردار صاحب کو گڑدے کر اور مالي کے متعلق پوچھ کر سيدھے چليں، ليکن وھ بولا آج کچھ بھي ھو شکاري صاحب کي بھوت والي کہاني ضرور سنيں گے،ھم ايک کونےميں بيٹھ گئے۔
وھ ايک شخص کا قصہ سنا رھے تھے جو ھر روز مسجد ميں صبح کي نماز پر غير حاضر ھوتا، ليکن بقيہ چاروں نمازوں کے وقت باقاعدگي سے پہنچتا، لوگ وجہ پوچھتے تو ٹال مٹول کرجاتا، آخر جب گاؤں والوں نے بہت مجبور کيا تو اس نے بتايا کہ جب وھ نماز کےلئے صبح سويرے گھر سے نکلتا ھے تو ايک بھيانک سي کالي شبہيہ اس کا راستہ روک ليتي ھے، اس طرح کہ ڈر کر اسے واپس آنا پڑتا ھے، يہ سن کر لوگ مذاق اڑانے لگے يہ کسيا ڈرپوک انسان ھے ، پھر کسي زرگ نے مشورھ ديا، کہ اگر اس پراسرار چيز پر قابو پانا ھے تو علي الصبح دونوں ہاتھوں پر سياھي ملکر نکلو، جونہي وھ سايہ سامنے آئے ھمت کرکے سياھي اس کے منھ پر مل دينا، اس پر تو وھ اور بھي ڈرا ليکن بزرگ نے ہمت بندھائي اور چار رونا چار دھ تيار ھوگيا۔
اگلي صبح نمازي کيا ديکہتے ھيں کہ وھ شخص ھنستا ھوا چلا آرھا ھے، مسجد ميں پہينتے ھي بڑے فخر سے بولا ، بھائيو، آج ميں نے اس شبيہہ کے منہ پر سياھي مل دي،۔ليکن لوگوں نے ديکھا ساري کالک خود اس کے چہرے پر لگي ھوئي ھے، دراصل وھ اپنے وھم سے خوف زدھ تھا، نہ کوئي سايہ تھا نہ ھي کوئي شبيہہ تھي، نہ نرا وہم تھا جس سے وھ ڈرا کرتا تھا۔ انہوں نے حقے کے کئي کش لگائے اور اپني سفيد مونچھوکو تاؤدينے لگے۔
ميں نے اپنے دوست ک وپھر ياد دلايا کہ اگر ھم فورا نمبر دار صاحب سے مل کر واپس روانہ نہ ھوئے تو گھر والے بہت خفا ھوں گے، مگر وھ نہ مانا۔آپ کچھ اپنے متعلق بھي بتائيں، ايک نوجوان نے کہا۔ ميں نے نہايت ھي کم عمر ميں پيدا ھوا، ابھي چھوٹا ھي تھا کہ يتيم ھونا پڑا، اور اتنے تنگ ودو وقسم قسم کے تجربوں ، محنت مشقت کے باوجود اب تک يتيم ھوں۔
آپ کا ذريعہ ما ش کيا رھا؟
کيا کہا؟ ذريعہ ماش؟ انہوں نے ڈانٹ کر پوچھا۔ جي نہيں ذريعہ معاش ۔۔۔۔يعني روزي کے سلسلے ميں کيا کچھ کرتے رھے ھيں؟ پہلے رياستي پوليس ميں ملازم رھا ، پھر بطور شکاري کئي رياستوں راجواڑوں ميں نوکري کي۔۔۔۔۔اب شکار ے علاوھ کھيتي باڑي کا شغل ھے۔اتفاق سے ميں شروع ھي سے فضول خرچ رھا ھوں۔
اگلا صفحہ (1) پچھلا صفحہ
Please use the forum for any questions!
This page has 2 comments. View/Add comments.
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu