فرسٹ کلاس کے کوپے میں اب تک ڈاکٹر خالد تنہا ہي
سفر کر رہا تھا اور شروع سے آخر تک پڑھا ہوا اخبار ايک مرتبہ پھر شروع سے آخر تک
پڑھنے ميں مصروف تھا کہ ٹرين ايک چھوٹے سے اسٹيشن پر ٹھر گئي مگر ڈاکٹر خالد نے يہ
بھينہ ديکھا کہ يہ کون سا اسٹيشن ہے اور ديکھتا بھي کيوں اس کو سوائے لاہور کے
اسٹيشن کے اور کسي اسٹيشن کا انتظار ہي کب تھا۔ ٹرين چند منٹ ٹھنرنے کے بعد چلنے
کيلئے رينگي ہي تھي کہ ايک خاتون اپني چھوٹي سي اثيچي ليے دروازہ کھول کر وارد ہو
گئي۔معلوم نہيں خالد ننے ان کو ديکھا بھي يا نہیں بہر
حال وہ خاتون خالد کو ديکھنے کے باوجود اس ليے نہ ديکھ سکيں کہ اس کے چہرے کے سامنے
اخبار پھيلا ہوا تھا جس کو خاتون کے آجانے کے باوجود اس نے نہ ہٹايا۔ ٹرين اب اپني
رفتار پکڑ چکي تھي مگر يہ دونوں خاموش مسافر ايک دوسرے قطعا ب نياز اس طرح بيٹھے
تھے گويا يہ طے کر کے بيٹھے ہون کہ ايک دوسرے سے ہر گز نياز حاصل نہ کريں گے۔ آجر
اس کيفيت سے گھبرا کر نو وارد خاتون نے اس پار جو صاحب بھي تھے ان کو ديکھنے کے لئے
اپني کئي زاويے بدلے مگر ہر طرف اخبار ہي اخبار نظر آيا آجر وہ صبر کر کے بيٹھ رہي
مگر آخر کب تک ، نتيجہ يہ کہ اس نے خود ہي بڑ بڑانا شروع کيا۔
بد تميز کہيں کا۔ گنوار۔ احمق
خالد نے گھبرا کر اخبار ايک طرف کر کے پوچھا۔
کچھ مجھ سے فرمايا؟
خاتون نے بڑے خشمگيں انداز سے کہا۔
جي نہیں ميں اس کو کہ رہي ہوں ريل کے بابو کر کہنے لگا کہ زنانے درجہ ميں بيتھ
جائيے۔ کوئي پوچھے تم کون ميں زنانے میں بيٹھو ں يا مردانے میں تمہاري اجارہ داري
ہے اور جانے اس ملک ميں يہ زنانہ اور مردانہ لغويت کب تک ہوتي رہے گي؟ خالد نے کہا۔
ہے تو واقعي سخت لغويت ۔ خاتون نے خوش ہو کر کہا۔
ہے نا آپ کے خيال میں بھي لغويت ميں تو سمجھي تھي کہ اب اس گنوار بابو کے بعد
آپ سے بھي مجھے سر کھپانا پڑے گا اور آپ بھي کہیں گے کہ عورتوں کو زنانہ درجہ ہي
ميں بيٹھنا چاھئيے۔خالد نے کہا جي نہیں ميں نے آپ کو خوش کرنے کے
لئے نہيں کہا ہے بلکہ ميں اس کو عورت کي سخت توہين سمجھتا ہوں کہ اس کے لئے عليحدہ
درجہ مقرر کر ديا حرم سرا کي قسم کا۔ خاتون نے آنکھوں میں چمک پيدا کر کے
تالي بجا دي مارے خوشي کے۔
توہين واققي ۔ ميں يہي لفظ ڈھونڈ رہي تھي آپ نے ميرے دل کي بات کہہ دي۔ اس سے بڑھ
کر عورت کي توہين اور کاي ہو سکتي ھے۔ خالد نے کہا۔ يہي باتين ہيں جن کي وجہ سے
عورتوں ميں خود نگري ، خود شناسي اور خود اعتمادي پيدا نہیں ہوئي۔
خاتون نے بڑے اشتياق سے اپنا اٹيچي کھولتے ہوئے کہا۔
کيا ۔ کيا ۔ ذرا ٹھريے ميں آپ کا يہ فقرہ لکھ لوں کون کون سي خود نہیں پيدا
ہوتي ۔
خود نگري۔ خالد نے کہا۔ خود نگري۔ خود شناسي اور خود اعتمادي پيدا
نہيں ہوتي ہ۔
خاتون نے يہ فقرہ لکھتے ہوئے مسرت سے کپکپاتي ہوئي آواز ميں کہا۔
کس قدر تسکين حاصل ہوئي ہے ميري روح کو آپ سے يہ چند باتيں سن کر مجھے محسوس ہو رہا
ہے کہ جيسے يہ آپنہيں کہہ رہے ہيں بلکہ ميري روح مجھ سے آج پہلي مرتبہ مخاطب ہوئي
ہے۔ ڈاکٹر صاحب آپ کے خيال میں يہ حالات کبھي
بدليں گے۔ خالد نے سنبھل کر بيٹھتے ہوئے کہا۔ مگر آپ کو يہ کيسے معلوم ہوا ميں
ڈاکٹر ہوں؟ خاتون نے اس کي جيب کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ظاہر ہے کہ آلہ کسي
بيرسٹر کي جيب ميں تو ہو نہیں سکتا بلکہ ميں تو يہ بھي بتا سکتي ہون کہ آپ
انگلينڈ سے آرہے ہيں۔خالد نے اپنے سامان کي طرف ديکھ کر کہا ۔جي
ہان يہ چغلي تو ميرے لگيج کے ليبل کھا رہے ہيں۔ خاتون نے کہا جس وقت آپ اخبار
پڑھنے ميں مصروف تھے ميں آپ کے سامان کے يہ ليبل پڑھ رہي تھي۔ ہاں تو بتايا
نہيں آپ نے کہ کيا اس ملک ميں کبھي عورت کو اس کا صحيح مرتبہ مل سکے گا۔ خالد
نے کہا ۔محترمہ اس دور میں کوئي چيز ملتي نہيں بلکہ حاصل کي جاتي ہے اور اگر
میں يہ کہون تو زيادہ صحيح ہوگا کہ ہر چيز حاصل بھي نہیں کي جاتي بلکہ چھيني
جاتي ہے۔ |