|
منٹگمري کے پوليس اسٹيشن پر ايک
معمر مگر باوقار بزرگ ايک نوجوان کے ساتھ کھڑے رپورٹ لکھوا رہے تھے۔
صاحب يہ تيسرا موقع ہے کہ وہ ايک دم
سے لا پتہ ہوگئي ہے اور مصيبت يہ ہے کہ بظاہر اس کو کوئي نہ پاگل کہہ سکتا ہے
نہ اس کے دماغ ميں خلل کا عمل ہو سکتا ہے وہ نہايت سلجبھي ہوئي باتين کرتي ہے۔
نہايت سليقہ سے رہتي ہے۔ کسي سے کسي بحث پر الجھ جائے تو بجائے پاگل سمجھنے کے
وہ اس کو نہايت ذہين اور طباع سمجھنے پر مجبوعر ہو۔ کسي وقت بھي کوئي پاگل پن
کي بات نہيں کرتي۔
سب انسپکٹر کنے غور سے سب کچھ سننے
کے بعد کہا۔ اس کے باوجود آپ اس بے چاري کو پاگل کہنے پر کيوں مصر ہيں؟ ان بزرگ
نے کہا ۔ جناب والا ميں مصر نہیں ہوں بلکہ وہ ہے ہي مخبوط الحواس۔ يہ تو ميں ہي
سمجھ سکتا ہوں کہ اس کے پاگل پن کي نوعيت کيا ہے۔ اب میں آپ کو پوري تفصيل ہي
بتائے ديتا ہوں۔ قصہ دراصل يہ ہے کہ گل رخ کو ان برخوردار يعني يہ جو آپ کے
سامنے موجود ہيں ارجمند صاحب ان سے والہانہ دلچسپي تھي اور غالبا ان کو بھي اس
سے اس حد تک دلچسپي تھي کہ ان دونوں نے عہد کر رکھا تھا کہ اگر يہ دونوں شادي
کريں گے تو ايک دوسرے سے ہي سے کريں گے ورنہ اس جھگڑے ہي ميں نہ پڑيں گے۔ حضرت
ميں ٹھرا ايک خانداني وضع کاپابند پرناے زمانے کا آدمي مجھ کو جب يہ خبر ہوئي
تو ميرے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے کہ ميرے خاندان ميں اس قسم کي غير شريفانہ
حرکت کيسے ممکن ہوگي؟
سب انسپکٹر نے
بڑي سنجيدگي سے کہا۔ قبلہ معاف کيجئے گا اس ميں غير شريفانہ حرکت کيا تھي؟ بزرگ
محترم نے کہا۔ آپ نہیں سمجھتے ۔ يوں تو خدا نا خاستہ کوئي غير شريفانہ حرکت نہ
تھي مگرميرے خاندان کے لئے چوں کہ يہ خود سري ايک نئي سي چيز تھي لہذا میں اس
کي تاب نہ لا سکا اور ميں نے صاحبزادي کي والدہ سے کہہ ديا کہ ميں بيٹي کو گولي
مار سکتا ہوں۔ زندہ دفن کر سکتا ہوں۔ گلا گھونٹ کر خود پھانسي کے تختے پر لتک
سکتا ہوں۔ مگر يہ نہیں ہو سکتا کہ وہ ارجمند ايسے اوباش سے شادي کرنا چاہتي ہے
لہذا ميں بھي سر تسليم خم کر دوں۔
سب انسپکٹر نے
ارجمند کي طرف ديکھتے ہوئے کہا۔ صورت سے تو اوباش نظر آتے نہیں۔ بزرگ محترم نے
جلدي سے کہا۔ نہ نہ نہ يہ مطلب نہيں ہے ميرا کہ يہ خداناخواستہ اوباش ہيں يا
اوباش تھے ۔ ميرے نزديگ تو ان کا ميري بيٹي سے مل کر سادي طے کرنا ہي ان کے
اوباش ہونے کي دليل تھا۔ ويسے يہ بفظلہ نہايت ہونہار ، سعادت مند اور خوش اطوار
نوجوان ہيں۔سب انسپکٹر نے کہا۔ اچھا تو يہ گويا آپ کو بعد میں معلوم ہوا کہ يہ
اس قسم کے سعيد اور صالح نوجوان ہيں۔ بزرگ محترم نے سمجھاتے ہوئے کہا۔ جي نہيں
معلوم تو پہلے سے تھا مگر چوں کہ ميري بيٹي کو ان حضرت نے براہ راست شادي کا
پيام دے ديا تھا۔ ارجمند نے بات کاٹ کر کہا۔ آپ ٹھر جائيے چچا مياں ميں سب کچھ
سمجھائے ديتا ہوں۔ بزرگ محترم نے ايک طرف ہٹنتے ھوئے اپني چھاليہ کا بٹوہ
کھولتے ہوئے کہا۔ چلو يہي سہي تم ہي سمجھا دو۔ مطلب تو ہے سمجھانے سے خواہ کوئي
سمجھائے۔
ارجمند نے سب انسپکٹر سے کہا۔ صاحب
قصہ دراصل يہ ہے کہ ميرے والد مرحوم اور قبلہ حکيم صاحب ميں نہايت دوستانہ
مراسم تھے اور علاوہ پڑوسي کے يہ دونوں شطرنج کے معاملے میں ہم مشرب بھي تھے
لہذا ہر وقت کي يکجائي نے ان مراسم کو دوستانہ مراسم سے زيادہ عزيزانہ مراسم کا
درجہ دے ديا تھا۔ يہ اس زمانے کا ذکر ہے جب ميري عمر بارہ تيراہ سال کي تھي اور
گل رخ سات آٹھ سال کي ہوگي۔ ہم دونوں ساتھ کھيل کر جوان ہوئے اور يہ جواني ہم
دونوں کے لئے دائمي يکجائي کا ارمان لے کر آئي چنانچہ ايک دوسرے وے
وابستگي اس حد تک بڑھي تھي کہ بزرگ محترم نے چنوٹي سے چونا چاٹتے ہوئے کہا۔
وابستگي ؟ کيا مطلب تمہارا وابستگي
سے بخدا گولي مار ديتا ميں دونوں کو اگر وابستگي کا شبہ بھي ہو جاتا وابستگي نہ
لکھيے گا صاحب دلچسپي زيادہ سے زيادہ لکھ سکتے ہيں آپ۔ سب انسپکٹر نے مسکراتے
ہوئے کہا۔ آپ اطميانن رکھيے ميں ابھي نہیں لکھ رہا ہوں نہ وابستگي نہ
دلچپسي۔ميں تو پورا قصہ سن رہا ہوں ہاں صاحب تو يہ بقول قبلہ حکي صاحب کے
دلچسپي اس حد تک بڑھي کہ۔ ارجمند نے سلسلہ ملايا۔ يہ دلچسپي اس حد تک بڑھي کہ
آخر ہم دونوں نے يہ عہد و پيماں ہوگئے کہ ہم اگر شادي کريں گے تو ايک دوسرے
ورنہ کسي اور جگہ شادي پر ترجيح ديں گے موت کو۔گل رخ نے کہا کہ دنيا کي کوئي
طاقت ہمارے درميان حائل نہیں ہو سکتي۔
حکيم صاحب کو پھر جوش آگيا۔ غلط ہے
۔يہ ناممکن ہے کہ گل رخ نے يہ بات کہي ہو اگر کہي ہے تو بس جدا مجھے موت دے دے
بجائے اس کہ ميں ايسي بے حيا لڑکي کا باپ کہلائو ۔ ننگ خاندان ، خود سر۔ سب
انسپکٹر نے ان کو سمجھاتے ہوئے کہا۔ ممکن ہے ان کو غلط ياد رہ گيا ہو اور يہ
بات اس نے نہ کہي ہو مگر آپ مجھے پورا قصہ تو سن لينے ديجئے۔ حکيم صاحب نے پھر
مونڈھے پر بيٹھتے ہوئے کہا۔ بہتر ہے سن ليجئے قصہ۔ارجمند نے سلسلہ جاري
رکھا۔ ہمارا يہ عہد اس حد تک پختہ تھا کہ جب ميري نسبت گئي چچا مياں کے يہاں
اور نامنظور ہوئي تو گل رخ کي صحت پر اس کا نہايت ناگوار اثر پڑا اور جب گل رخ
کي نسبت ان کے ايک اور عزيز کےيہاں سے آئي او منظور کر لي گئي تو گل رخ نے جرات
سے کام لے کر ايک خط اپني والدہ کو لکھا کہ اگر اس جگہ اس کي شادي کي کوشش کي
گئي تو ڈولے میں صرف اس کي لاش جا سکے گي۔
|