Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children
Special Occassion Collection at IndusMart.com


  اردوادب | مزاحيہ مضامين | شوکت تھانوي
پگلي
حکيم صاحب نے پہلو بدلتے ہوئے کہا۔ جي ہاں لاش جائے گي۔ مجھے بھي مضنوي زہر عشق والا سودا گر سمجھ رکھا تھا ان صاحبزادي نے جس کي لڑکي نے زہر کھا ليا تھا۔ بخدا بزدل تھا ميں ، ورنہ گولي مر ديانا چاہئيے تھي اس خط کے جواب ميں يعني بواپسي ڈاک۔ارجمند نے سلسلہ جاري رکھا ،مگر گل رخ کے اس خط کے باوجود شادي کي تيارياں ہوتي رہيں اور اس کا دماغ مائوف ہوتا چلا گيا يہا تک کہ رفتہ رفتہ اس نے اپنا دماغي توازن اس حد تک کھو ديا کہ وہ کچھ اس قسم کي بہکي بہکي باتيں کرنے لگي جو کسي ناواقف کو پاگل پن کي بتين محسوس نہیں ہو سکتين مگر جاننے والے جانتے ہيں کہ اس کا دماغ بالکل ہي الٹ چکا ہے کہ اب وہ مجھ کو بھي آنکھيں پھاڑ ے ديکھتي رہتي ہے اور قطعا نہيں پہچانتي۔

حکيم صاحب نے آگے بڑھ کر کہا۔ خير يہ تو کوئي بات نہیں مگر غضب تو يہ ہو اکہ وہ ميرے سامنے آنکھ اٹھا کر بات بھي نہ کرتي تھي اور اب نہ جانے کہان کہان کي باتين نہايت دھڑلے سے کرنے لگي ہے۔ ميں چون کہ جود بھي طبيب ہون لہذا مجھ کو اس تشجيص کے معاملے ميں دوسرے اطباء سے شديد اختلاف ہے۔ میں ان ڈاکٹر صاحبان اور ان اطباء سے متفق نہیں ہوں جو اس کے دماغ ميں خلل تجويز کرتے ہيں بلکہ ميري تشخيص يہ ہے کہ وہ بالکل ٹھيک ہے صرف اس کي آنکھوں کا پاني ڈھل گيا ہے۔ سب انسپکٹر نے ہنسي صبط کرتے ہوئے کہا۔ يہ بھي گويا کوئي مرض ہے۔ حکيم صاحب نے تمباکو کي چٹکي منہ ميں ڈالتے ہوئے کہا۔ طبي حيثيت سے يہ کوئي مرض نہيں ہے مگر اخلاقي حيثيت سے اور ہمارے خانداني رکھ رکھائو کي حيثيت سے ايک شريف زادي کے لئے جونا کتھدا بھي ہو يہ نہايت مہلک مرض ہے۔

سب انسپکٹر نے الجھتے ہوئ کہا۔ اچھا تو اب رپورٹ کيا لکھوانا چاہتے ہيں آپ وہ کچھ زيوعر وغيرہ اور نقدي بھي لے کر فرا ہوئي ہے حکيم صاحب نے گھبرا کر کہا۔ فرار؟ فرا ہر گز نہ لکھيے گا ميرے ليے نہايت ڈوب مرنے کا مقام ہے يہ۔ دوسرے وہ دراصل فرار ہوئي بھي نہيں ہے ۔ وہ تو بس غائب ہو جايا کرتي ہے۔ سب انسپکٹر نے کہا آپ کے خيال ميں اس کا اغوا کيا گيا ہے۔ حکيم صاحب اور بھي سٹپٹا گئے۔ نہيں صاحب ۔ استغفر اللہ اغوا سے کيا تعلق ، فرار، اغوا ، باس اسي قسم کے الفاظ آپ کو ياد ہيں جن سے ايک شريف خاندان کے نام پر بٹہ لگ سکے۔ سب انسپکٹر نے عاجز آکر کہا۔ تو صاحب ميں پھر کيا لکھوں پاگل آپ کہتے ہيں کہ وہ ہے نہیں۔ کچھ لے کر بھاگي بھي نہيں ہے۔

حکيم صاحب نے بات کاٹ کر کہا۔ نہیں صاحب بالکل نہیں، بھاگي واگي وہ بالکل نہیں ہے۔ ان سے سے اچھا تو يہي ہے کہ آپ اس کو پاگل ہي لکھ دين۔ سب انسپکٹر نے کہا، يعني ہے نہں پاگل اور لکھ دوں۔ ارجمند نے آگے بڑھ کہا ، چچا مياں آپ خواہ مخواہ بات بڑھا رہے ہيں ۔ آپ تشريف رکھيے ميں رپورٹ لکھوائے ديتا ہوں۔ حکيم صاحب نے پيچھے ہٹتے ہوئے کہا۔ اچھا صاحب آپ ہي لکھوائيے۔ اگر مجھے يہ معلوم ہوتا کہ اتنے جھگڑے ہيں ذرا سي رپورٹ لکھوانے ميں تو کيوں آتا يہاں۔

ارجمند نے اسنپکٹر سے کہا۔آپ تو صرف يہ رپورٹ درج کر ليجئے کہ گل رخ نامي ايک لڑکي جو حکيم فياض علي صاحب کي دختر ہے اپنا دماغي توازن کھو بيٹھي ہے اور اسي ديوانگي کے عالم ميں دو مرتبہ پہلے بھي غائب ہو چکي ہے مگر اس مرتبہ پندرہ دن ہونے کو آئے اس کا کہيں پتہ نہيں چلتا وہ نہ کچھ لے کر گئي ہے نہ اغوا وغيرہ کا يہ قصہ ہے۔ حکيم صاحب نے وہيں بيٹھے بيٹھے کہا۔ اجي اغوا سے بد تر ہے يہ قصہ۔ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہيں رکھا صاحبزادي نے اور اگر اس کےدماغ ميں خرابي ہے بھي تو تم ذمھ دار ہو اس خرابي کے۔ اب تو خير وہ مل جائے تو تمہارے ساتھ ہي اس کي شادي کر کے ميں اپنا پيچھا چھڑائوں مگر قيامت کے دن ميرا ہاتھ ہوگا اور تمہارا گيبان۔

ارجمند نے سب انسپکٹر سے کہا۔ آپ بس يہي رپورٹ درج کر ليجئے ۔ چچا مياں کي باتوں پر غو رنہ کيجئے ان کے دماغ پر خود اس سانحہ کا شديد اثر ہے۔ حکيم صاحب نے بلبلا کر اٹھتے ہوئے کہا۔ شديد اثر ہے۔ يعني پاگل ہو گيا ہے يہ بڈھا۔ خبط الحواس ہے۔ گھاس کھا گيا ہے ۔ ديکھيے تھانہ دار صاحب آپ خود عاقل بالغ آدمي ہيں وردي پہنتے ہیں ميں آپ سے عرض کرتا ہون کہ اگر يہ صاحبزادے اس کے دماغ میں يہ کيڑا نہ رينگاتے جس سے ايک نوجوان نا تجربہ کار لڑکي اور ايک ناپختہ کار احمق لڑکے کے درميان دلچسپي پيدا ہو جايا کرتي تھي تو يہ نوبت ہي کيوں آتي۔ ساري ذمہ داري ان ہي حضرت کي ہے۔ سزا تو ان کي يہ ہے کہ ان ہي کو گرفتار کرادوں مگر مجبور ہوں اس سر پھري لونڈيا کے ہاتھوں بہر حال لکھ ليجئے۔ تھانيدار نے مسکرا کر ارجمند کو ديکھا اس کے بعد اس نے رپورٹ لکھنا شروع کر دي۔ اس عرصہ ميں حکيم صاحن نہ جانے بيٹھے کيا کيا بڑ بڑاتے رہے۔ کبھي بٹوہ کھول کر چھاليہ پھانک ليتے تھے۔ کبھي تمباکو کي چٹکي منہ ميں ڈال ليتے تھے کبھي نہ جانے انگليوں پر کوئي حساب لگانا شروع کر ديتے تھے يا وظيفہ پڑھ ليتے تھے مگر وہ اس وقت گڑ بڑا کر کھڑے ہوگئے جب ارجمند نے گل رخ کي تصوير انسپکٹر کو دي۔

يہ کيا ہے تصوير۔ يعني اب ميري دختر کي تصوير تھانے پر لٹکائي جائے گي۔ جي نہیں يہ ہو سکتا وہ ملےيا جنہم ميں جائے مگر خاندان کا نام اس طرح روشن نہ ہونے دوں گا۔ پھاڑ ڈاليے صاحب يہ رپورٹ ۔ سب انسپکٹر نے بمشکل سمجھايا کہ اس تصوير سے گل رخ کے جلد ملنے ميں آسانياں پيدا ہوں گي ۔ اور يہ بھي معجزہ تھا کہ حکيم صاحب مطمئين ہو کر تھانے سے گئے۔

اگلا صفحہ (6) پچھلا صفحہ
Please use the forum for any questions!
This page has 6 comments. View/Add comments.
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu